جمعہ، 9 اگست، 2019

كياجسم كے كسى بهى حصہ سے خون بہنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

0 comments
*🌹كياجسم كے كسى بهى حصہ سے خون بہنے سے وضو ٹوٹ جاتا هے؟🌹*

السلام علیکم! 
کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام مفتیان کرام،  مثئلہ ذیل میں کہ۔ اعضاء وضو سے خون 💉 نکل کر بیہنے پر ہی وضو ٹوٹتا ہے یا جسم کے کسی بھی حصہ سے بیہنے سے وضو ٹوٹ جاتا هے؟ براےَ کرم اصلاح فرماے۔ 

*سائل:محمد شعیب ممبئی*

ا════════🔰════════
*وعلیکم السلام ورحمتہ الله وبركاته*
*✍الجواب بعون المك الوهاب،* 
*جسم سے خون نکل کر ایسی جگہ بہا  جس کا وُضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وُضو ٹوٹ جائے گا، اور ایسی جگہ بہ کر نہیں آیا جس کا دھونا فرض ہو تو وُضو نہیں ٹوٹیگا*

🔰جیسے کہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمہ فتاویٰ ہندیہ و در مختار کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: 

```📄خون، یا پیپ ، یا زرد، پانی کہیں   سے نکل کر بہا اور اس بہنے میں   ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وُضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وُضو جاتا رہا اگر صرف چمکا یا اُبھرا اور بہا نہیں   جیسے سوئی کی نوک یا چاقو کا کنارہ لگ جاتا ہے اور خون اُبھر یا چمک جاتا ہے یا خِلال کیا یا مِسواک کی یااُنگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیز کاٹی اس پر خون کا اثر پایا یا ناک میں اُنگلی ڈالی اس پر خون کی سُرخی آگئی مگر وہ خون بہنے کے قابل نہ تھا تووُضو نہیں ٹوٹا۔ اور اگر بہا مگر ایسی جگہ بہ کر نہیں آیا جس کا دھونا فرض ہو تو وُضو نہیں   ٹوٹا۔ مثلاً آنکھ میں دانہ تھا اور ٹوٹ کر آنکھ کے اندر ہی پھیل گیا باہر نہیں نکلا یا کان کے اندر دانہ ٹوٹا اور اس کا پانی سوراخ سے باہر نہ نکلا تو ان صورتوں میں وُضو باقی ہے۔```

(بہار شریعت، جلد اول حصہ دوم)

*والله تعالى اعلم بالصواب؛*
◆ــــــــــــــــ▪♦▪ــــــــــــــــ◆
*✍ازقلـــم:-اسیر حضور اشرف العلماءابــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
*مورخہ، ٢٨ رَمَضَانُ الْمُبَارَک ٠۴۴١؁ھ*
*🔹اسماعیلی گـروپ؛🔹*
*رابطہ؛ 9167698708*
◆ــــــــــــــــ▪♦▪ــــــــــــــــ◆
*المشتــہر؛* 
*اسيــرتـاج الشـر يعــه خـاكسـار*
*غــــلام احمــــد رضــــا نــــــورى*
◆ــــــــــــــــ▪♦▪ــــــــــــــــ◆


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔