*🔸عبادات پر علم کی فضیلت🔸*
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام اس مسئلہ میں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی فضیلت کو کس فضیلت سے بڑھ کر بتایا
بینوا توجروا
*🔸سائل: محمد عمران رضا بریلی شریف🔸*
ا___________💠⚜💠__________
*و علیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوھاب ⇩*
علم فضیلت پر کئیں رسالے علماء اسلام کے موجود ہیں پھر بھی پوچھ لیے ہو تو ہم مختصراً بیان کئے دیتے ہیں
نبی ﷺ نے عبادات پر علم کی کئی گنا فضیلتیں بیان فرمائی ہے۔
⚜چنانچہ ایک حدیث میں آنحضرتﷺ نے فرمایا:
*" اِنَّ فَضلَ العالِمِ عَلیَ العابِدِ کَفَضْلَ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ عَلٰی ساَ ئرِ الکَواکِبِ وِاِنَّ الْعُلَماَ ءَ وَرَ ثَۃُ الاَنْبِیاَءََ وَ اِنَّ الْاَ نْبِیاَ ءَ لَمْ یُوَ رِّ ثوُا دِیْناَراً وّ لاَ دِرْھِما وَ اِنّماَ وَ رَّثوُا الْعِلْمَ فَمَنْ اَ خِذَ ہُ اَخزَ بِحَظِِ وَافِرِِ "*
*( 📙ترمذی،ابوداؤد)*
مفھوم بیشک عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جسے چود ہویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہے اور بیشک علماء انبیاء کے وراث ہیں اور بیشک انبیاء دینار و درھم کا وارث نہیں بناتے، وہ تو علم کا وارث بناتے ہیں تو جس نے اس میں سے حصہ پایا تو اس نے صحیح حصہ پایا۔
💎ایک دوسری حدیث میں بھی آنحضورﷺ نے علم اور عبادت میں فضلیت کے فرق کو ایک مثال کے ذریعہ واضح فرمایا
📄چنانچہ ترمذی اور مشکوٰۃ شریف کی روایت ہے ۔
*" عَنْ اَبیِ اُمامَۃَ الْباھِلیِ ذُکِرَ لَرَسوُلِ للہِ رَجُلاَنِ اَحَدُھُمَا عاَبِد’‘ وَلْاَخَرُ عَالِم ’‘ فقَالَ رَسوُلُ اللہِ ﷺ فَضْلُ الْعَالِمِ عَلیَ الْعَابِدِ کَفَضْلِی عَلٰی ادْنَاکُمْ "*
*( 📔ترمذی دارمی،مشکوۃ)*
ترجمہ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ان میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضلیت تم میں سے سب پر ادنیٰ پر
ایک اور حدیث میں عبادت اور علم میں مقام و مرتبہ کے لحاظ سے جو فرق ہے اس کو اس طرح واضح کیا گیا
*" عَنْ اَبْنِ عَباّسِ قّا لَ رَسوُلُ اللہ ﷺ فَقِیہُِ واَحَد’‘ اَشَدُّ عَلیَ الشیطانِ منْ اَلْفِ عَابِدِِ "*
*( 📘ترمذی،ابن ماجہ ،مشکوۃ)*
مفھوم حضرت ابن عبّاس سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے
واضح رہے کہ عربی میں فقیہ اس کو کہتے ہیں
جسے قرآن و حدیث کا پختہ اور گہرا علم ہو اور جو قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط کرے ساتھ ہی اس میں یہ صلاحیت بھی ہو کہ قرآن و حدیث کے احکامات و ہدایات کو موجودہ دور میں انسانوں کی زندگیوں پر منطبق کرے
یہی وجہ ہے کہ فقہ کے چار اماموں یعنی امام اعظم ابو حنیفہ،امام شا فعی ،امام مالک ،امام احمد بن حنبل کو عام عام
طور سے فقہاء کرام کہا جاتا ہے
کیونکہ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط کیا
معلوم ہوا کہ دین کے فقیہ کا مرتبہ عالم دین سے بھی بڑا ہوا ہے۔ویسے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ علم کا اصل مقصد دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنا ہی ہے اور اسی کا نام فقہ ہے۔
🔖مذکورہ تینوں ہی احادیث سے یہ بات واضح ہوئی کہ حصولِ علم کو عبادت پر ہزاروں گناہ فضیلت حاصل ہے
لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی فرض عبادات مثلاً نماز، روزہ ،زکوٰۃ ،حج کو چھوڑ کر صرف حصولِ علم میں لگا رہے مذکورہ احادیث پر غور کرنے سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ جو عبادات بغیر علم و شعور کے ادا کی جاتی ہے اور جو علم و شعور کے ساتھ ادا کی جاتی ہے ان دونوں میں یہ تفاوت ہے ۔ساتھ ہی مذکورہ احادیث کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ نفل عبادات پر حصول علم کو ہزاروں گناہ فضیلت حاصل ہے ،چاہے وہ نفل نمازیں ہو یا نفل روزے ہو، یا نفل صدقات ہوں، یا نفل حج ہو ،یا او کوئی نفل کام ہو ،ان تمام کاموں میں علم کے سیکھنے اور سیکھانے کو ہزاروں گناہ فضیلت حاصل ہے
لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ آج معاشرہ میں جو افراد دیندار شمار ہوتے ہیں ان کے پاس نوافل عبادات کی تو بڑی اہمیت ہے لیکن قرآن و حدیث کے علم کے سیکھنے سکھانے کی ذرا بھی اہمیت نہیں ہے۔یہاں تک کی معاشرے میں ایسے لاکھوں کروڑوں افراد مل جائیں گے جنہوں نے اپنی زندگی میں ہزاروں نفل رکعتیں پڑھ ڈالی ،سیکڑوں نفل روزے رکھ لئے اور لاکھوں روپئے نفل صدقات اور نفل حجوں میں خرچ کر ڈالے لیکن زندگی میں ایک مرتبہ بھی سورہ فاتحہ کے مکمل مطلب اور مفہوم کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش نہیں کی
اسی طرح قرآن و احادیث کا علم جو فرض ہے اس کے علم کے حصول میں جو ترجمہ اور تفسیر کی کتابیں ضروری ہے انہیں خریدنے کے لئے چند روپئے بھی خرچ نہیں کئے واضح رہے کہ صاحب حیثیت مسلمان پر بھی حج زندگی میں صرف ایک مرتبہ ہی فرض ہے۔ایک مرتبہ سے جو زائد ہوگا، وہ نفل حج ہوگا ،اور نفل حج کرنے سے ہزاروں درجہ بہتر ہے کہ وہ اتنا روپیہ اور وقت قرآن و حدیث کے سیکھنے اور سیکھانے میں لگائے
لیکن افسوس ہے کہ بہت سے مسلمان اس افضل کام کو چھوڑ کر غیر افضل کام میں اپنا روپیہ اور وقت لگارہے ہیں
ایک اور حدیث میں آنحضورﷺ نے حضرت ابو زر رضی اللہ عنہ کو علم حاصل کرنے کی جو نصیحت کی اس سے بھی نفل عبادت پر حصولِ علم کی اہمیت و فضیلت واضح ہوتی ہے۔
📜یہ حدیث ابن ماجہ شریف میں ہے اور ہمارے اکثر علماء اسلام اسے اپنی کتابوں میں نقل کئے ہیں
✨چنانچہ حدیث اس طرح ہے
*’یاٰباَ ذَرِّ لَاَن تَغْدُ فَتَعَلَّمَ آیَۃً مِّنْ کِتَابَ اللہِ تَعاٰلیٰ خَیْر’ لَّکَ مِنْ اَنْ تَُصَلِّیَ مِاَ ءۃَ رَکَعَۃِِ وَلَاَنِْ تَغْدُ فَتَعَلَّمَ باَ باََمِنَ لْعِلْمِ عُمِلَ بِہِ اَوْلَمْ یُعْمَلْ بِہِ خَیْر’‘ لَّکَ مِنْ اَنْ تُصَلِّیَ الْفَ رَکَعَتہِِ "*
*( 📓ابن ماجہ)*
مفھوم: حضرت ابو زر سے روایت ہے کہ اُن سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ’ اے ابو زر تیرا صبح کو قرآن کی ایک آیت کا علم حاصل کرنا تیرے لئے سو رکعت پڑھنے سے بہتر ہے اور تیرا صبح کو دین کے ایک موضوع کا علم حاصل کرنا تیرے لئے ہزار رکعت پڑھنے سے بہتر ہے ۔چاہے اُس موضوع پر عمل ہو یا عمل نہ ہو۔
مذکورہ تمام احادیث سے جہاں اسلامی عبادات پر اسلامی علم کی اہمیت و فضیلت واضح ہوتی ہے وہیں علم کا اصل مقصد *’تَفَقَّہُ فِی الدِّین‘* یعنی دین میں سمجھ بوجھ اور فہم و بصیرت پیدا کرنا بھی معلوم ہوتا ہے۔
💝ایک دانا کا قول ہے:
*" اتخذ اللیل جملا تدرک بہ املا "*
ترجمہ: ساری ساری رات کام میں مصروف رہا کرو مقصود کو جلد پالوگے ۔
💫اے عزیزطالب علم !خود مجھے بھی اس موضوع پر یہ نظم لکھنے کا اتفاق ہوا ہے ۔
*" من شاء ان یحتوی آمالہ جملا فلیتخذ لیلہ فی درکھا جملا "*
ترجمہ: جو یہ چاہتاہے کہ اس کی تمام خواہشیں پوری ہوجائیں اسے چاہیے کہ ان خواہشات کی تحصیل کے لیے رات بھر اپنے کام میں مصروف رہے ۔
*📿" اقلل طعامک کی تحظی بہ ثمرا ان شئت یاصاحبی ان تبلغ الکملا "*
ترجمہ: اپنے کھانے کو کم کرتاکہ تو فوائد وثمرات میں حصہ پاسکے اے میرے دوست! اگر توفضل وکمال کی منزل تک پہنچنا چاہتاہے ۔
*" من اسھر نفسہ، باللیل فقد فرح قلبہ، بالنھار "*
ترجمہ: جو راتوں کو جاگتا ہے تو اس کا دن مسرت وخوشی سے گزرتاہے۔
🛸اے عزیز طالب علم !علم کیلئے رات کے اول حصے اورآخری حصے میں مطالعہ کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ مغرب وعشاء کے درمیان کا وقت اورسحری کا وقت دونوں بہت ہی مبارک اوقات ہیں ۔
ایک شاعر کہتاہے :
*"یاطالب العلم باشر الورعا وجنب النوم واترک الشبعا "*
ترجمہ: اے عزیز طالب علم !تقوی اورپرہیز گاری کو لازم پکڑ ، نیند سے کنارہ کر اور شکم سیر ہونا چھوڑ دے ۔
*" داوم علی الدرس لاتفارقہ،فالعلم بالدرس قام وارتفعا "*
ترجمہ: درس وتکرار پر مداومت اختیار کر کبھی اس میں ناغہ مت کرنا کہ علم کا پودا درس وتکرار ہی سے کھڑا رہتاہے اورمزید پھلتا پھولتارہتاہے ۔
⚜الغرض ایک طالب علم کو آغاز جوانی اورنوعمری سے فائدہ اٹھانا چاہیے
💠جیسا کہ ایک شاعر کہتاہے کہ:
*" بقدر الکد تعطی ما تروم فمن رام المنی لیلا یقوم "*
ترجمہ: تو اپنی تمناؤں کو بقدر محنت ہی حاصل کرسکتاہے جو ڈھیروں مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ راتوں کو قیام کرے۔
*" وایا م الحداثۃ فاغتنمھا الا ان الحداثۃ لاتدوم "*
ترجمہ:زندگی کے یہ دن تو عارضی ہیں ،انہیں غنیمت جان کر ان سے فائدہ اٹھا لو کیونکہ عارضی چیز ہمیشہ نہیں رہتی۔
*( 📚راہ علم، ص نمبر ۴۲ ، ۴۳ )*
میں اللہ عزوجل کے بارگاہ میں دعا کرتا ہوں، جب بھی میری موت آئے فقہ کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے آئے، آمین
*🌹واللّٰه تعالیٰ اعلم 🌹*
ا___________💠⚜💠__________
*✍🏻شرف قلم اسیر حضور اشرف العلماء ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی، مانخورد ممبئی*
*🗓 ۳۱ جولائی بروز بدھ ۲۰۱۹ عیسوی* https://wa.me/+919167698708
ا___________💠⚜💠__________
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
ا___________💠⚜💠__________
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی*
ا__________💠⚜💠___________











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔