جمعہ، 26 جون، 2020

مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں

0 comments
🌸 *مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں*🌹

https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1
السلام علیکم شب جمعہ مبارک 
مسلمان کے مسلمان پر جو ۵ حقوق ہے وہ کیا ہے؟
*🔸سائلہ؛ عائشہ فاطمہ، حیدرآباد تلنگانہ🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمة اللّٰه وبرکاته*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں
۱) ملاقات کے وقت اسے سلام کرے
۲)جب وہ دعوت کرے تو قبول کرے
۳)جب اسے چھینک آئے ( اور وہ حمد الہی بجا لائے ) تو یہ اسے یرحمک اللہ کہے
۴)بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جائے
۵) اس کی موت میں حاضر ہو
۶)اگرنصیحت چاہے تو نصیحت کرے ۔

📑حدیث مبارکہ میں ہے 
*"عن أبی ایوب الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہﷺ : ان للمسلم علی اخیہ ست خصال واجبۃ ، ان ترک شئیا منہا فقد ترک حقا واجبا علیہ لاخیہ ، یسلم علیہ اذا لقیہ ، ویجیبہ اذا دعاہ ،و یشمتہ اذا عطس ویعودہ اذا مرض،ویحضرہ اذا مات ، وینصحہ اذا استنصحہ۔"*
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر چھ حق واجب ہیں۔ اگر ان میں سے ایک چیز چھوڑے تو اپنے بھائی کا حق ترک کرے گا جو اس کے لئے اس پر واجب تھا ۔ملاقات کے وقت اسے سلام کرے،جب وہ دعوت کرے تو قبول کرے، یا جب وہ پکارے تو جواب دے . جب اسے چھینک آئے ( اور وہ حمد الہی بجا لائے ) تو یہ اسے یرحمک اللہ کہے۔ بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جائے ۔ اس کی موت میں حاضر ہو ۔ اگرنصیحت چاہے تو نصیحت کرے 

🔖امام اہلِ سنت قدس سرہ فرماتے ہیں محقق علی الاطلاق نے فرمایا:ضروری ہے کہ اس حدیث میں وجوب کو ایسے معنی پر حمل کریں جو وجوب کے اس معنی سے کہ فقہ کی اصطلاح میں حادث ہے عام ہو ۔ اس لئے کہ ظاہر حدیث یہ ہے کہ ابتدا بالسلام واجب ہو اور نماز جنازہ فرض عین ہو۔ تو حدیث کی مراد یہ ہے کہ یہ حقوق مسلمان پر ثابت ہیں خواہ مستحب ہوں یا واجب فقہی ۔ 
*(📙بحوالہ؛ فتاوی رضویہ ۷/ ۱۸۱ ؛ حوالہ جامع الاحادیث جلد چہارم کتاب الادب /حقوق عباد، ص ۱۲۴ ، مطبوعہ مرکز اہلسنت برکات رضا)*

*🔸واللّٰه تعالیٰ اعلم 🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی مانخورد ممبئی*
*🗓 ۴ ذی القعدہ ۴۴۱؁ھ مطابق ۲۶ جون ٠٢٠٢؁ء بروز جمعہ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸حـــــــدیثِ نـــبوی ﷺ (خواتین گروپ)🔸* https://wa.me/+919167698708
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث وجواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

جمعہ، 12 جون، 2020

یہ شعر (بھلائی کر بھلا ہوگا برائی کر برا ہوگا ، کوئی دیکھے یا نہ دیکھے خدا تودیکھتا ہوگا) پڑھنا کیسا ہے؟

1 comments
🔎 *یہ شعر (بھلائی کر بھلا ہوگا برائی کر برا ہوگا ، کوئی دیکھے یا نہ دیکھے خدا تودیکھتا ہوگا) پڑھنا کیسا ہے؟*🔍

◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆

*اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں یہ شعر پڑھنا کیسا ہے👇
*بھلائی کر بھلا ہوگا برائی کر برا ہوگا*
*کوئی دیکھے یا نا دیکھے خدا تو* *دیکھتا ہوگا* 
اس شعر کو پڑھنے والے پر کیا حکم ہے 
*ا•─────────────────────•*
*سائل؛محمد ہاشم رضا عزیزی*
◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆

*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب ۔۔۔* 
اس شعر میں نہ کوئی شرعی گرفت ہے نہ کوئی قباحت، شاعر یہ ہی کہنا چاہتا ہے کہ بھلا کروگے یعنی نیک کام کروگے تو ثواب ملیگا اور برا کروگے تو گناہ ہوگا اور بیشک اللہ تعالی ہر بات کو جانتا ہے اس پر کچھ چھپا ہوا نہیں ہے - 

اسکی "(بھلائی کر بھلا ہوگا برائی کر برا ہوگا)" وضاحت قرآن مجید میں ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے
*فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ ،وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠*
📖(سورۃ الزلزال) 
"ترجمہ؛ وجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔ اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔"
🔍 *اسکے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے؛ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ہر مومن اور کافر کو قیامت کے دن اس کے نیک اوربرے اعمال دکھائے جائیں گے، مومن کو اس کی نیکیاں اور برائیاں دکھا کر اللّٰہ تعالیٰ برائیاں بخش دے گا اور نیکیوں پر ثواب عطا فرمائے گا اورکافر کی نیکیاں رد کردی جائیں گی کیونکہ وہ کفر کی وجہ سے ضائع ہوچکیں اور برائیوں پر اس کو عذاب کیا جائے گا۔ اور حضرت محمد بن کعب قرظی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ کافر نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی تووہ اس کی جزا دنیا ہی میں دیکھ لے گا یہاں تک کہ جب دنیا سے نکلے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی اور مومن اپنی برائیوں کی سزا دنیا میں پائے گا تو آخرت میں اس کے ساتھ کوئی برائی نہ ہوگی۔بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے پہلی آیت مومنین کے بارے میں ہے اور یہ آیت کفار کے بارے میں ہے۔*   
📗(بحوالہ؛خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ۸ ،۴/ ۴۰۱، مدارک، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ:۸،ص ۱۳۶۸، ملتقطاً)
*🔍نیکی تھوڑی سی بھی کارآمد اور گناہ چھوٹا سا بھی وبال ہے:اس آیت سے معلوم ہوا کہ نیکی تھوڑی سی بھی کارآمد ہے اور گناہ چھوٹا سا بھی وبال ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا’’بندہ کبھی اللّٰہ تعالیٰ کی خوشنودی کی بات کہتا ہے اور اُس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا(یعنی بعض باتیں انسان کے نزدیک نہایت معمولی ہوتی ہیں) اللّٰہ تعالیٰ اُس (بات)کی وجہ سے اس کے بہت سے درجے بلند کرتا ہے اور کبھی اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضگی کی بات کرتا ہے اور اُس کاخیال بھی نہیں کرتا اِس (بات) کی وجہ سے جہنم میں گرتا ہے۔*
📙(بحوالہ؛ بخاری، کتاب الرّقاق، باب حفظ اللسان، ۴ / ۲۴۱، الحدیث: ۶۴۷۸)   

📄اور اسکی "(کوئی دیکھے یا نا دیکھے خدا تو دیکھتا ہوگا)"تکفیر نہیں ہوگی پہلے شعر کو سمجھیں 
قائل نے اس جملے سے پہلے کچھ بات بیان کی اسکے بعد وہ یہ کہہ رہا ہے کہ خدا دیکھ رہا ہے اگرچہ جملہ دیکھتا ہوگا لکھا ہے لیکن وہ سمجھانا کہنا یہ ہی چاہتا ہے کہ اللہ تعالی کو ہر بات کی خبر ہے 
 وضاحت قرآن مجید میں ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے
*اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِؕ-اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ*
📖(سورۃ الحج آیت ۷۰)
"ترجمہ ؛ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بیشک یہ سب ایک کتاب میں ہے بیشک یہ اللہ پربہت آسان ہے۔"
 *🔍تفسیر صراط الجنان میں ہے اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اے بندے! کیا تجھے معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں، وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ان چیزوں میں کفار کی باتیں اور ان کے اعمال بھی داخل ہیں ، بیشک آسمانوں اور زمین کی ہر چیز ایک کتاب لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اور بیشک ان سب چیزوں کا علم اور تمام موجودات کو لوحِ محفوظ میں ثَبت فرمانا اللہ تعالیٰ پربہت آسان ہے۔*
📗(بحوالہ تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ:۷۰، ۸ / ۲۵۰،روح البیان، الحج، تحت الآیۃ :۷۰، ۶ / ۵۸، ملتقطاً)
     
*وقال اللہ تعالی؛ وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِؕ-وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ*
📖(سورہ یونس آیت ۶۱) 
"ترجمہ ؛ اور تم کسی کام میں ہو اور تم اس کی طرف سے قرآن کی تلاوت کرتے ہو اور (اے لوگو!) تم کوئی بھی کام کررہے ہو ،ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو اور زمین و آسمان میں کوئی ذرہ برابر چیز تیرے رب سے غائب نہیں اور ذرے سے چھوٹی اور بڑی کوئی چیز ایسی نہیں جو ایک روشن کتاب میں نہ ہو۔"
🔍 *تفسیر صراط الجنان میں اس کے متعلق فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر شاہد اور ہر چیز کو جاننے والا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی خالق ہے نہ اِیجاد کرنے والا، بندوں کی ظاہری اور باطنی اَعمال میں سے جو چیز بھی موجود ہے وہ اللہ تعالیٰ کے وجود میں لانے سے ہی موجود ہے اور جو اِیجاد کرنے والا ہوتا ہے وہ اس چیز کو جانتا بھی ہےلہٰذا نبی ﷺ کے اَعمال و اَحوال، تلاوت ِ قرآن، اُمورِ دُنیویہ و حاجت ِ ضروریہ میں مصروفیت اور اسی کے ساتھ تمام لوگوں کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں اور وہ ان سب پر گواہ ہے۔پھر فرمایا کہ زمین و آسمان میں ایک ذرے کی مقدار بھی کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے دور اور اس کے علم سے پو شیدہ نہیں اور اس ذرے سے چھوٹی یا بڑی کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو روشن کتاب یعنی لَوحِ محفوظ میں درج نہ ہو۔*
📗(بحوالہ؛ تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ:۶۱، ۶ /۲۷۲-۲۷۳، بیضاوی، یونس، تحت الآیۃ:۶۱ ،۳/ ۲۰۵)  
   
اللہ تعالیٰ سے حیا کرتے ہوئے نافرمانی سے بچنا چاہئے:یہ آیتِ مبارکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علم، قدرت اور اس کی عظمت کے اظہار کیلئے ہے اور اسی میں ہمارے لئے تنبیہ اور نصیحت ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے تمام اَعمال کو ہر وقت، ہر لمحہ دیکھ رہا ہے تو اس کریم ذات کی حیا اور خوف سے ہمیں اس کی نافرمانی کے کاموں سے بچنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا حقیقی خوف اور اپنی نافرمانی سے بچتے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے،اٰمین۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
*ا•─────────────────────•*
*✒️کتبہ :ابــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
 *رابطہ نمبر ؛ 9167698708*
*ا•─────────────────────•*
۱۹ شوال المکرم ١٤١٤؁ھ ، مطابق ۱۲ جون ٠٢٠٢؁ء
*ا•─────────────────────•*
*فیضان حضرت بلال رضی اللہ عنہ گروپ*
*ا•─────────────────────•*

*https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1*
*ا•─────────────────────•*

جس عورت سے زنا کیا اسکی ماں اور لڑکیاں اس پر حرام ہیں

0 comments
*🔸جس عورت سے زنا کیا اسکی ماں اور لڑکیاں اس پر حرام ہیں🔸*

https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسٸلے کے بارے میں
کہ ہندہ یہ ایک شادی شدہ عورت ہے اور اس کی دو چار اولاد بھی ہے اب ہندہ سے زید نے زنا جیسا گناہ کبیرہ کربیٹھا دوچار سال بعد زید ہندہ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو کیا اس صورت میں زید کی شادی ہندہ کی بیٹی سے ہوگی یا نہیں
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مفصل و مدلل
بہت بہت مہربانی ہوگی
*فخرازھرچینل لنک*
https://t.me/fakhreazhar
*🔸سائل مشتاق احمد🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمة اللّٰه وبرکاته*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
بالکل بھی نہیں ہو سکتی ، ہندہ کی بیٹی زید پر دائمی حرام ہو چکی ہے

📑اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے
*وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًاؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ (۲۲) حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىٕكُمْ وَ رَبَآىٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ٘-فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ٘-وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْۙ-وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ (۲۳) وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْۚ-كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْۚ-وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَؕ-*
*(📔سورۃ النساء )*
 اُن عورتوں سے نکاح نہ کرو، جن سے تمھارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو مگر جو گزر چکا ،بیشک یہ بے حیائی اور غضب کا کام ہے اور بہت بُری راہ ۔ تم پر حرام ہیں تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور دُودھ کی بہنیں اور تمھاری عورتوں کی مائیں اور اُن کی بیٹیاں جو تمھاری گود میں ہیں،اُن بیبیوں سے جن سے تم جماع کر چکے ہو اور اگر تم نے اُن سے جماع نہ کیا ہو تو اُن کی بیٹیوں میں گناہ نہیں اورتمھارے نسلی بیٹوں کی بیبیاں اور دو بہنوں کو اکٹھا کرنا مگر جو ہو چکا۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور حرام ہیں شوہر والی عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمھاری مِلک میں آجائیں ، یہ اللہ کا نوشتہ ہے اور ان کے سوا جو رہیں وہ تم پر حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو پارسائی چاہتے، نہ زنا کرتے۔

📃بہار شریعت ج ۲ ح ۷ میں ہے 
جس عورت سے زنا کیا، اس کی ماں اور لڑکیاں اس پر حرام ہیں ،یوہیں وہ عورت زانیہ اس شخص کے باپ ،دادا اور بیٹوں پر حرام ہو جاتی ہے۔ 
*(📚بحوالہ؛ ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب النکاح،الباب الثالث في المحرمات،القسم الثاني،ج۱،ص۲۷۴۔و’’ردالمحتار‘‘،کتاب النکاح،فصل في المحرمات، ج۴، ص۱۱۳)*

*🔸واللّٰه تعالیٰ اعلم 🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی مانخورد ممبئی*
*🗓 ۱۶ شوال المکرم ۴۴۱؁ھ مطابق ۹ جون ٠٢٠٢؁ء بروز منگل*
*رابطہ* https://wa.me/+919167698708
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح و المجیب نجیح حضرت مولانا محمد جابرالقادری رضوی صاحب قبلہ مسجد نور جاجپور اڑیسہ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث وجواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

منگل، 9 جون، 2020

ابابیل کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟

0 comments
🔎 *ابابیل کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟*🔍
◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆

*اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*
ابابیل کا اسلام سے کیا تعلق ہے، اسکا کیا ذکر ہے؟ 
*ا•─────────────────────•*
*سائلہ؛ نغمہ خاتون ،نینیتال اتراکھنڈ*
◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆

*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب ۔۔۔* 
🔍سورۃ الفیل میں ابابیل کا ذکر ہے، جس نے ابرہہ کی فوج پرکنکریاں برسائیں تھیں۔

*قال اللہ تعالی فی القرآن المجید: اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ(۱)اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ(۲)وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ(۳)تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍﭪ(۴)فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠(۵)*
 📕ترجمۂ؛ کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا؟ کیا اس نے ان کے مکرو فریب کو تباہی میں نہ ڈالا۔ اور ان پر فوج در فوج پرندے بھیجے۔ جو انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے تھے ۔ تو انہیں جانوروں کے کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا۔

*📄صراط الجنان فی تفسیر القرآن میں ہے۔۔۔ اس سورت میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یمن اور حبشہ کے بادشاہ ابرہہ نے جب حج کے موسم میں لوگوں کو بیتُ اللّٰہ کا حج کرنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا تو اُس نے اِس غرض سے صنعاء میں ایک کنیسہ (عبادت خانہ) بنایا کہ حج کرنے والے مکہ مکرمہ جانے کی بجائے یہیں آئیں اور اسی کنیسہ کا طواف کریں ۔عرب کے لوگوں کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور قبیلہ بنی کنانہ کے ایک شخص نے موقع پا کر اس کنیسہ میں قضائے حاجت کی اور اس کو نجاست سے آلودہ کردیا۔ جب ابرہہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو اسے بہت طیش آیا اوراُس نے قسم کھائی کہ وہ کعبۂ مُعَظّمہ کو گرا دے گا،چنانچہ وہ اس ارادے سے اپنا لشکر لے کر چلا۔اس لشکر میں بہت سے ہاتھی بھی تھے اور ان کا پیش رَو ایک بڑے جسم والا کوہ پیکر ہاتھی تھا جس کا نام محمود تھا۔ ابرہہ جب مکہ مکرمہ کے قریب پہنچاتو اس نے اہلِ مکہ کے جانور قید کر لئے اور ان میں حضرت عبدالمطلب کے دو سو اونٹ بھی تھے ۔حضرت عبدالمطلب ابرہہ کے پاس آئے تو اس نے ان کی تعظیم کی اور اپنے پاس بٹھا کر پوچھا کہ آپ کس مقصد سے یہاں آئے ہیں اور آپ کا کیا مطالبہ ہے ۔آپ نے فرمایا :میرا مطالبہ یہ ہے کہ میرے اونٹ مجھے واپس کر دئیے جائیں ۔ ابرہہ نے کہا :مجھے آپ کی بات سن کربہت تعجب ہوا ہے کہ میں اس خانۂ کعبہ کو ڈھانے کے لئے یہاں آیا ہوں جو آپ کا اور آپ کے باپ دادا کا مُعَظّم و محترم مقام ہے، آپ اس کے لئے تو کچھ نہیں کہتے اوراپنے اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں ! آپ نے فرمایا: میں اونٹوں ہی کا مالک ہوں اس لئے انہی کے بارے میں کہتا ہوں اور کعبہ کا جو مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا ۔یہ سن کر ابرہہ نے آپ کے اونٹ واپس کردیئے،حضرت عبدالمطلب نے واپس آکر قریش کو صورتِ حال سے آگاہ کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ پہاڑوں کی گھاٹیوں اور چوٹیوں میں پناہ گزین ہو جائیں ، چنانچہ قریش نے ایسا ہی کیا اور حضرت عبدالمطلب نے کعبہ کے دروازے پر پہنچ کر بارگاہِ الٰہی میں کعبہ کی حفاظت کی دعا کی اور دعا سے فارغ ہو کر آپ بھی اپنی قوم کی طرف چلے گئے ۔ ابرہہ نے صبح تَڑکے اپنے لشکر کو تیار ی کا حکم دیا تو اس وقت محمود نامی ہاتھی کی حالت یہ تھی کہ جب اسے کسی اور طرف چلاتے توچلتا تھا لیکن جب کعبہ کی طرف اس کا رُخ کرتے تو وہ بیٹھ جاتا تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ابرہہ کے لشکر پر سمندر کی جانب سے پرندوں کی فوجیں بھیجیں اور ان میں سے ہر پرندے کے پاس تین کنکریاں تھیں دو دونوں پاؤں میں اورایک چونچ میں تھی ، وہ پرندے آئے اور کنکر کے پتھروں سے انہیں مارنے لگے، چنانچہ جس شخص پر وہ پرندہ سنگریزہ چھوڑتا تو وہ سنگریزہ اس کے خود کو توڑ کر سر سے نکلتاہوا، جسم کو چیر کر ہاتھی میں سے گزرتا ہوا زمین پر پہنچ جاتا اور ہر سنگریزے پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس سنگریزے سے اسے ہلاک کیا گیا ،اس طرح ان پرندوں نے ابرہہ کے لشکریوں کو جانوروں کے کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا۔جس سال یہ واقعہ رونما ہوا اسی سال سرکارِ دوعالمــــــــــمﷺ کی ولادت ہوئی۔* 
📗(بحوالہ؛ خازن، الفیل، تحت الآیۃ: ۱ - ۵ ، ۴ / ۴۰۷ - ۴۱۰) 

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
*ا•─────────────────────•*
*✒️کتبہ :ابــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
 *رابطہ نمبر ؛ 9167698708*
*ا•─────────────────────•*
۱۵ شوال المکرم ١٤١٤؁ھ ، مطابق ۸ جون ٠٢٠٢؁ء
*ا•─────────────────────•*
*حدیث نبوی ﷺ (خواتین) گروپ*
*ا•─────────────────────•*
*https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1*
*ا•─────────────────────•*

یہ جملہ "(موسی علیہ السلام جو ٹھیک سے بول نہیں پاتے تھے)" کہنا کیسا؟

0 comments
🔎 *یہ جملہ "(موسی علیہ السلام جو ٹھیک سے بول نہیں پاتے تھے)" کہنا کیسا؟*🔍
◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆

*اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مندرجہ ذیل جملہ بولنا کیسا ہے؟ 

(جب آپ خود میں کوئی کمزوری پائے تو یاد کرنا موسی علیہ السلام کو جو ٹھیک سے بول نہیں پاتے تھے)
*ا•─────────────────────•*
*سائلہ؛ عائشہ فاطمہ، حیدرآباد*
◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆

*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب ۔۔۔* 
🔍اس میں کوئی سخت حکم نہیں، کیونکہ قائل کا مذکورہ جملہ کسی کو سمجھانے یا صبر کی طرف اشارہ ہے، ہاں ایسا بولنے سے ضرور بچنا چاہیے کہ ایسا جملہ نبی کے شان کے خلاف ہے اور اگر با نیت تحقیر بولا یا لکھا ہے تو ایسا شخص بلا شبہ کافر ہے دین اسلام سے خارج ہے کیونکہ انبیاء کرام علیھم السلام کی ادنی سی توہین بھی کفر ہے 

*📗صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: نبی کی تعظیم فرضِ عین بلکہ اصلِ تمام فرائض ہے۔ کسی بھی نبی کی ادنیٰ توہین یا تکذیب، کفر ہے*

موسی علیہ السلام کے متعلق جو بات سوال میں ذکر ہے اسکا خلاصہ کیے دوں،

 اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے 
*📌قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ(۲۵)وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ(۲۶)وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ(۲۷)یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪(۲۸)*
ترجمہ؛ موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے ۔ اور میرے لیے میرا کام آسان فرما دے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ تاکہ وہ میری بات سمجھیں۔
(سورہ طہ, آیت ۲۵ تا ۲۸) 

 *📑ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سر کش فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا گیا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جان گئے کہ انہیں ایک ایسے عظیم کام کا پابند کیا گیا ہے جس کے لئے سینہ کشادہ ہونے کی حاجت ہے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور اسے رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لئے وسیع فرما دے اور اسباب پیدا فرما کر دیگر رکاوٹیں ختم کر کے میرے لیے میرا وہ کام آسان فرما دے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے اور میری زبان کی گرہ کھول دے جو بچپن میں آگ کا انگارہ منہ میں رکھ لینے سے پڑ گئی ہے تاکہ وہ لوگ رسالت کی تبلیغ کے وقت میری بات سمجھیں* 
📔(بحوالہ ؛ مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۸، ص۶۸۹-۶۹۰، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۸، ۳ / ۲۵۲-۲۵۳،روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۸، ۵ / ۳۷۸، ملتقطاً ؛ حوالہ صراط الجنان فی تفسیر القرآن)    
*حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبان میں لُکْنت پیدا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں ایک دن فرعون نے آپ کو اٹھایا تو آپ نے اس کی داڑھی پکڑ کر اس کے منہ پر زور سے طمانچہ مار دیا، اِس پر اُسے غصہ آیا اور اُس نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا، یہ دیکھ کر حضرت آسیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا نے کہا: اے بادشاہ! یہ ابھی بچہ ہے اسے کیا سمجھ؟ اگر تو تجربہ کرنا چاہے تو تجربہ کرلے۔ اس تجربہ کے لئے ایک طشت میں آگ اور ایک طشت میں سرخ یاقوت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے پیش کئے گئے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یاقوت لینا چاہا مگر فرشتے نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہاتھ انگارہ پر رکھ دیا اور وہ انگارہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے منہ میں دے دیا اس سے زبان مبارک جل گئی اور لکنت پیدا ہوگئی۔*
📘(بحوالہ؛ بغوی، طہ، تحت الآیۃ : ۲۷، ۳ / ۱۸۲، حوالہ؛ صراط الجنان فی تفسیر القرآن)    

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
*ا•─────────────────────•*
*✒️کتبہ :ابــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
 *رابطہ نمبر ؛ 9167698708*
*ا•─────────────────────•*
۱۵ شوال المکرم ١٤١٤؁ھ ، مطابق ۸ جون ٠٢٠٢؁ء
*ا•─────────────────────•*
*حدیث نبوی ﷺ (خواتین) گروپ*
*ا•─────────────────────•*
*https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1*
*ا•─────────────────────•*

جمعہ، 22 مئی، 2020

اشـــــــــــــــــــــــــــرفــی تــــــــــــــــــــــــــــــــرانہ*

0 comments
*اشـــــــــــــــــــــــــــرفــی تــــــــــــــــــــــــــــــــرانہ*

◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر یکــــــــ نــــــــظـر کُــــــــن سُــــــــوئــــــــے مــــــــا*
اے شہ سمنان وغوث عالم وپیر ہدیٰ 
 صاحب فضل وعطا سر چشمۂ جودو سخا
 تیرے در پر تیرا منگلتا دست بستہ ہے کھڑا
 لاج رکھ لے میرے داتا میرے خالی ہاتھ کا

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر یکــــــــ نــــــــظـر کُــــــــن سُــــــــوئــــــــے مــــــــا*
قبۂ بیضا فلک رفعت ہے اور محراب ماہ
دیکھتے ہیں ٹوپیاں تھامے سبھی محتاج وشاہ
آستانہ قصر جنت سے فزوں رکھتاجاہ 
ہاں دکھادے جلوہ زیبا بھی اب بہرالٰہ

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر یکــــــــ نــــــــظـر کُــــــــن سُــــــــوئــــــــے مــــــــا*
شہریارا اولیاء اے صاحب عزوقار
 اے گل باغ ولایت دونوں عالم کی بہار
 ہوں خزانِ غم کے ہاتھوں آجکل زارو نزار
 تیری چوکھٹ پر کھڑا ہوں ہاتھ باندھے اشکبار

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر یکــــــــ نــــــــظـر کُــــــــن سُــــــــوئــــــــے مــــــــا*
اک طریقے پر نہیں رہتا کبھی دنیا کا حال
 ہر کمالِ راز وال وہر زوالِ راکمال
کٹ گئیں فرقت کی راتیں اب تو ہو روزِ وصال
 ہاں نکل اے آفتابِ حسن اے مہرِ جمال

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر یکــــــــ نــــــــظـر کُــــــــن سُــــــــوئــــــــے مــــــــا*
آگئے ہیں اب عداوت پر بہت اہل زمن
 ایک میں ہوں ناتواں اور لاکھ ہیں رنج و محن
 سیدِ محتاج کی سن لے برائے پنجتن
 بول بالا ہو ترا آباد تیری انجمن
◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆
*✒️پیشکش :ابــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
 *رابطہ نمبر ؛ 9167698708*
*ا•─────────────────────•*
۲۸ رمضان المبارک ١٤١٤؁ھ ، مطابق ۲۲ مئی ٠٢٠٢؁ء بروز جمعہ
*ا•─────────────────────•*
*https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1*
*ا•─────────────────────•*

جمعرات، 21 مئی، 2020

کفر بکنے پر مجبور کیا جائے تو کیا کرے؟

0 comments
🔎 *کفر بکنے پر مجبور کیا جائے تو کیا کرے؟*🔍
https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1
◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆

*اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*
علمائے کرام کی بار گاہ میں عرض ہے کہ زید کے علاقے کے چند علمائے کرام کو آر ایس ایس و بھاچپا والے اٹھا کر لے گئے اور ان سے طرح طرح کفری سوالات کر رہے اور کفریہ کلمات بولنے پر مجبور کر رہے ہیں۔۔ امر طلب یہ ہیکہ ایسی حالت میں عمائے کرام کیا کرے؟جلد از جلد مدلل ومفصل جواب عنایت کریں ۔۔ مہربانی ہوگی
*ا•─────────────────────•*
*سائل؛محمد توقیر رضا برکاتی ثقافی*
◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆

*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب ۔۔۔* 
🔍 *موبلینچنگ کی بے شمار واقعات ہندوستان میں ہوچکے ہیں جو کہ کسی پر مخفی نہیں، آئے دن اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں، کبھی "گائے ہتیہ" کے نام پر کبھی "جیہ شری رام" کے نام پر کبھی "بھارت ماتا کی جیہ" وغیرہ وغیرہ اگر اس طرح کے حالات کہیں پر پیش آجائے اور کفر بکنے پر مجبور کیا جائے ،جیسے اگر کوئی مردود عضو کاٹ ڈالنے یا شدید مار مارنے کی صحیح دھمکی دے کر کفر کرنے کا حکم دے اور جس کو دھمکی دی گئی وہ جانتا ہے کہ یہ ظالم جو کچھ کہہ رہا ہے کر گزرے گا۔ تو اب ظاہری طور پر کلمۂ کفر بکنے کی رخصت ہے اور دل حسب سابق ایمان پر مطمئن ہونے کی صورت میں کافر نہ ہوگا۔*

*قال اللہ تعالی فی القرآن المجید: مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ*
(📙سورۃ النحل آیت ۱۰۶)
*ترجمہ؛ جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے سوائے اس آدمی کے جسے (کفرپر) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پرجما ہوا ہولیکن وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔*

📃یہ آیت حضرت عمار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں نازل ہوئی حضرت عمار، ان کے والد حضرت یاسر ، ان کی والدہ حضرت سمیہ، حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت خباب اور حضرت سالم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو پکڑ کر کفار نے سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں (لیکن یہ حضرات اسلام سے نہ پھرے تو) کفار نے حضرت عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والدین کو بڑی بے رحمی سے شہیدکر دیا حضرت عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (ضعیف تھے جس کی وجہ سے بھاگ نہیں سکتے تھے، انہوں ) نے مجبور ہو کر جب دیکھا کہ جان پر بن گئی تو بادلِ نخواستہ کلمۂ کفر کا تَلَفُّظ کردیا رسولِ کریم ﷺ کو خبر دی گئی کہ حضرت عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کافر ہوگئے تو حضور ﷺ نے فرمایا ’’ہرگز نہیں، حضرت عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سر سے پاؤں تک ایمان سے پُر ہیں اور اس کے گوشت اور خون میں ذوقِ ایمانی سرایت کرگیا ہے۔ پھر حضرت عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روتے ہوئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ’’کیا ہوا؟ حضرت عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: اے خدا کے رسول ﷺ! بہت ہی برا ہوا اور بہت ہی برے کلمے میری زبان پر جاری ہوئے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اس وقت تیرے دل کا کیا حال تھا؟ حضرت عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی ’’دل ایمان پر خوب جما ہوا تھا۔ نبیﷺ نے شفقت و رحمت فرمائی اور فرمایا کہ اگر پھر ایسا اتفاق ہو تو یہی کرنا چاہیے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔      
*(📘بحوالہ؛ خازن، النحل، تحت الآیۃ،۱۰۶ ،۳ / ۱۴۴ملخصاً ؛ حوالہ : صراط الجنان فی تفسیر القرآن)*  

📄ایسے وقت میں اپنے قول یا فعل میں "توریہ" کرے یعنی ۔۔ معاذ ﷲ اگر کفر کرنے پر اکراہ ہوا اور قتل یا قطع عضو کی دھمکی دی گئی تو اس شخص کو صرف ظاہری طور پر اس کفر کے کر لینے کی رخصت ہے اور دل میں وہی یقین ایمانی قائم رکھنا لازم ہے جو پہلے تھا اور اس شخص کو چاہیے کہ اپنے قول و فعل میں توریہ کرے یعنی اگرچہ اس فعل یا قول کا ظاہر کفر ہے مگر اس کی نیت ایسی ہو کہ کفر نہ رہے مثلاً اس کو مجبور کیا گیا کہ بت کو سجدہ کرے اور اس نے سجدہ کیا تو یہ نیت کرے کہ خدا کو سجدہ کرتا ہوں یا سرکار رسالت ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے پر مجبور کیا گیا تو کسی دوسرے شخص کی نیت کرے جس کا نام محمد ہو اور اگر اس شخص کے دل میں توریہ کا خیال آیا مگر توریہ نہ کیا یعنی خدا کے لیے سجدہ کی نیت نہیں کی تو یہ شخص کافر ہو جائے گا اور اس کی عورت نکاح سے خارج ہو جائے گی اور اگر اس شخص کو توریہ کا دھیان ہی نہیں آیا کہ توریہ کرتا اور بت کو ہی سجدہ کیا مگر دل سے اس کا منکر ہے تو اس صورت میں کافر نہیں ہوگا
*(📗بحوالہ؛ ’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الإکراہ،مطلب:بیع المکرہ فاسد۔۔۔إلخ،ج ۹،ص ۲۲۶۔حوالہ؛ بہار شریعت، جلد سوم حصہ پانزدہم، اکراہ کے شرائط)* 

📌الحاصل کلام ؛ مثلا کسی نے آپ کو گن پوائنٹ پر لے کر بت سامنے رکھا اور معاذاللہ کہا:''اس کو سجدہ کرو۔'' اگر آپ جانتے ہیں کہ اس کی بات نہیں مانوں گا تو واقعی یہ گولی مار دے گا تو اب سجدہ کرنے میں یہ نیت کیجئے کہ''میں بت کو نہیں بلکہ اللہ عزوجل کو سجدہ کر رہا ہوں ۔'' یا اسی طرح اس نے کہا کہ معاذاللہ عزوجل محمد ﷺ کو فلاں گالی دو۔ تو گالی بکتے وقت رسول اللہﷺ کی نیت نہیں بلکہ کسی دوسرے ایسے شخص کی نیت کر لے جس کا نام محمد ہو مثلا اپنے بھائی یا دوست یا پڑوسی کا نام محمد ہے تو اسی کا تصور باندھ لے کہ میں اس محمد نامی آدمی کو گالی دے رہا ہوں ۔ توریہ کا مسئلہ جاننے ، طریقہ معلوم ہونے، اس وقت یاد ہونے اور ممکن ہونے کے باوجود اگر یہاں توریہ نہیں کریگا تو کفر کرنے کی صورت میں خود کافر ہو جائے گا اور اگر اس وقت توریہ کی طرف توجہ نہ گئی تو بت کو سجدہ کرتے وقت یا کفریہ بات بکتے وقت دل ایمان پر مطمئن ہے اور جو کچھ کرنے لگا ہے اس کا دل اندر سے انکاری ہے تو اب کافر نہ ہوگا۔

*📝جب اکراہ شرعی پایا جائے اس وقت رخصت ہے کہ دشمن کے مطالبہ پر کفریہ کلمہ کہہ دے یا کفریہ فعل بجالائے۔ (جبکہ دل ایمان پر جما ہوا ہو) اور جان بچا لے اور عزیمت یہ ہے کہ جان دیدے مگر دشمن کے دیئے جانے والے خلاف شریعت حکم پر عمل نہ کرے اور عزیمت کی فضیلت زیادہ ہے۔*

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
*ا•─────────────────────•*
*✒️کتبہ :ابــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
 *رابطہ نمبر ؛ 9167698708*
*ا•─────────────────────•*
۲۵ رمضان المبارک ١٤١٤؁ھ ، مطابق ۱۹ مئی ٠٢٠٢؁ء بروز منگل
*ا•─────────────────────•*
*گروپ؛ دارالافتاء ارشدیہ سبحانیہ*
*ا•─────────────────────•*
الجواب صحیح✅✅✅
ماشاءاللہ تعالٰی  
پوسٹ تو عمدہ لکھا ہے ،بارک اللہ تعالٰی فی علمک و حیاتک و مرامک و عملک و علمک 
*عبد الوھاب رضوی اشرفی، شاہی جمعہ مسجد احمدآباد گجرات*
*ا•─────────────────────•*

اللہ کی اطاعت پر منت مانی تو اسے پوری کرے

0 comments
*‭‮‭‮ _◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
*اللہ کی اطاعت پر منت مانی تو اسے پوری کرے*
*‭‮‭‮ _◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1
*_✧ا◉➻══════════➻◉ا✧_*
*🌹 _اَلسَـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ_ 🌹‎*
*_★★ــــــــــــ♥🌸🌸🌸♥ــــــــــــ★★_*
 *_📜کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کےبارے میں کہ ہندہ نے بوقت حمل منت مانی کہ اگر بیٹی ہوئی تو میں پچاس رکعت نماز نفل خود ادا کرونگی یا اپنے شوہر سے ادا کرواؤنگی اب ہندہ کی منت پوری ہوگئی ہے اور اسکی بیٹی پیدا ہوئی ہے جیساکہ اس نے منت مانی تھی تو اس کے متعلق کیا حکم رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی_*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_☘سائل:محمد شاہد رضا قادری قنوج☘_* *_✧ا◉➻══════════➻◉ا✧_*
*🌹 _وعلیـکم السـلام ورحمة اللہ وبرکاته_ 🌹*

_*♥الجـــــــواب بـعــون الملک الـوہاب♥*_ 

*ہندہ نفاس سے فارغ ہونے کے بعد اپنی منت پوری کریں، یعنی ۵۰ رکعت نماز ادا کریں*

*قال اللہ تعالی فی القران الكريم؛ يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ يَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِيْرًا(سورۃ الدھر ۷)*

*ترجمہ؛ نیک لوگ وہ ہیں جو اپنی منّت پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے۔*

*رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو یہ منّت مانے کہ اللہ کی اطاعت کریگا تو اس کی اطاعت کرے یعنی منّت پوری کرے اور جو اس کی نافرمانی کرنے کی منّت مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے یعنی اس منّت کو پورانہ کرے۔*

*(📕بحوالہ ؛ صحیح البخاري‘‘، کتاب الأیمان والنذور، باب النذر في الطاعۃ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۶۶۹۶،ج۴، ص۳۰۲- حوالہ :بہار شریعت،جلد دوم ،حصہ نہم)* 

*صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں؛*
*منّت کی دو ۲ صورتیں ہیں: ایکی یہ کہ اس کے کرنے کو کسی چیز کے ہونے پر موقوف رکھے مثلاً میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا یا خیرات کروں گا، دوم یہ کہ ایسا نہ ہو مثلاً مجھ پر اللہ کے لیے اتنے روزے رکھنے ہیں یا میں نے اتنے روزوں کی منّت مانی۔ پہلی صورت یعنی جس میں کسی شے کے ہونے پر اس کام کو معلق کیا ہو اس کی دو صورتیں ہیں۔ اگر ایسی چیز پر معلق کیا کہ اس کے ہونے کی خواہش ہے مثلاً اگر میرا لڑکا تندرست ہوجائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ کام نہ کرے اور اس کے عوض میں کفارہ دیدے،اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا جس کا ہونا نہیں چاہتا مثلاً اگر میں تم سے بات کروں یا تمھارے گھر آؤں تو مجھ پر اتنے روزے ہیں کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ میں تمھارے یہاں نہیں آؤں گا تم سے بات نہ کروں گا ایسی صورت میں اگر شرط پائی گئی یعنی اس کے یہاں گیا یا اس سے بات کی تو اختیار ہے کہ جتنے روزے کہے تھے وہ رکھ لے یا کفارہ دے*

*(📗بحوالہ: ’’ الدر المختار‘‘،کتاب الأیمان ،ج۵ ،ص۵۳۷،۵۴۲۔ حوالہ؛ ایضا)*

*نماز پڑھنےکی منّت مانی اور رکعتوں کو معین نہ کیا تو دو رکعت پڑھنی ضروری ہے اور ایک آدھی رکعت کی منّت مانی جب بھی دو پڑھنی ضروری ہے اور تین رکعت کی منّت ہے تو چار پڑھے اور پانچ کی تو چھ پڑھے*

*(📘بحوالہ؛ ’’ الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الأیمان ، الباب الثانی فیمایکون یمیناومالایکون یمینا۔۔۔إلخ ، الفصل الثانی ،ج۲،ص۶۵۔حوالہ؛ ایضا)* 

*رہی بات شوہر سے ادا کروانے کی، تو یہ نہیں ہوگا کہ کوئی منت کسی دوسرے سے کروانے کے متعلق خود مان لیں*

*📖قال اللہ تعالی: لا اکراہ فی الدین؛ و قال : لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا (سورۃ البقرہ)*
           
       *🌹 _واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب_ 🌹*
*_★★★ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ★★★_*
         *📝 _شــــــــرف قلـــــــم_ 📝*
*ابـــو حـنیفہ مــحمد اکــبر اشــرفی رضـوی؛ مانـخورد مـمبئی*
 *رابطــــہ نمبــــر📞 919167698708+☎*
*_✧ا◉➻══════════➻◉ا✧_*
*۲۵/ رمضان المبارک،١٤٤١؁بمطابق ١۹/مئی،٠٢٠٢؁*
 _*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
                 *🖥 _المشتہــــــر_ 🖥*
*_بـانـئ پیغــام مســلک آعلــی حضــرت گــــروپ محمــد نــوشــاد عـالـم کٹیہــاربہــار الھنــــــــد_*
*_رابطـــــہ نمبــــــر📞+919934959535_ ☎*
*•─────────────────────•*
 *💙 _(پیغــام مسلک آعلحضرت گــــروپ)_ 💙*
*•─────────────────────•*
🚤🚤🚤🚤☘☘☘🚤🚤🚤🚤

پیر، 18 مئی، 2020

تــــــــــــــــــــــــــــــــرانۂ اشـــــــــــــــــــــــــــرفــی

0 comments
*تــــــــــــــــــــــــــــــــرانۂ اشـــــــــــــــــــــــــــرفــی*

◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆

*اَلــــــــسَـلامُ عَــــــــلَيْـكُّم وَرَحْــــــــمَـة اَلـــلـــهِ وَبَــــــــرَكـاتُـهُ‎*
*تــــــــرانہ اشــــــــرفی حــــــــضـور شــــــــیـخ اعــــــــظم اولاد رســــــــول ﷺ حــــــــضـرت عــــــــلامہ ســــــــیـد اظـہار اشــــــــرف اشــــــــرفـی الــــــــجـیلانی مــــــــدظـلہ الــــــــعـالی ســــــــجّادہ نــــــــشـین (کــــــــچـھوچـھہ شــــــــریف یــــــــوپـی انــــــــڈیا) نــــــــے جــــــــامـع اشــــــــرف کــــــــے قــــــــیام کــــــــے وقــــــــتــــــــ تــــــــحـریر فــــــــرمائے تھــــــــے۔ چــــــــونکہ اس تــــــــرانہ اشــــــــرفـی کــــــــے ذریـعے فــــــــیضانِ اشــــــــرفی ســــــــے بــــــــہت ســــــــے لـوگ فــــــــیض یــــــــابــــــــ ہــــــــو چــــــــکے ہــــــــیں*
*ا•─────────────────────•*

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر اکــــــــ نــــــــظـر کــــــــن ســــــــوئــــــــے مــــــــا* 

سیدی مخدوم اشرف غوث العالم دستگیر
مظہر شان علی اور چشت کے بدر منیر 
صاحب جودو سخا سر چشمہ روشن ضمیر 
ہو گئ ہیں غم کے ہاتھوں چشم نم مثل نیر  

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر اکــــــــ نــــــــظـر کــــــــن ســــــــوئــــــــے مــــــــا* 

نیر برج ولایت صاحب عزو وقار
معدن فیض و کرامت تیرے در کی ہے بہار  
ہے گدا و شاہ پر تیری عنایت بے شمار 
آپ کے ذات مقدس پر ہے کل دارو مدار

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر اکــــــــ نــــــــظـر کــــــــن ســــــــوئــــــــے مــــــــا* 

نور بطحا کی بجلی ہر طرف جلوہ فگن 
نصرت غوث الوری فیضان خواجہ موجزن
اولیاء اقطاب سے آباد ہے تیرا چمن 
بہر نور العین کردو دور سب رنج و محن 

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر اکــــــــ نــــــــظـر کــــــــن ســــــــوئــــــــے مــــــــا* 

جامع اشرف ہے فروغ سنیت کا شاہکار 
جامع اشرف فیض مخدومی کی ہے اک یادگار  
جامع اشرف احمد اشرف کے تحیل کا مینار
ہو سلامت تا ابد پھولے پھلے لیل و نہار 

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر اکــــــــ نــــــــظـر کــــــــن ســــــــوئــــــــے مــــــــا* 

لے لیے ہے فتنہ پروازوں کے فتنوں نے جنم 
حرص دنیا کے لئے کچھ چھوڑ رکھے ہیں صنم 
تیری چوکھٹ پہ یہی ہے التجا بادیدہ نم 
عاصی "اظہار" کی رکھ لیجئے آقا بھرم

*ســــــــرورا شــــــــاہـا کــــــــریـمـا دســــــــتـگیـرا اشــــــــرفـا* 
*حــــــــرمـتِ روح پــــــــیـمبـر اکــــــــ نــــــــظـر کــــــــن ســــــــوئــــــــے مــــــــا* 

◆ ــــــــــــــــــــ▪ 📝 ▪ــــــــــــــــــــ ◆
*✒️پیشکش :ابــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
 *رابطہ نمبر ؛ 9167698708*
*ا•─────────────────────•*
۲۲ رمضان المبارک ١٤١٤؁ھ ، مطابق ۱۶ مئی ٠٢٠٢؁ء
*ا•─────────────────────•*
*https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1*
*ا•─────────────────────•*

جمعرات، 14 مئی، 2020

صدقات فقراء و مساکین کے لئے ہیں

0 comments
*🔸صدقات فقراء و مساکین کے لئے ہیں🔸*

https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1
کیافرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسلۂ ذیل کے بارے میں کہ ایک بیوہ عورت ہے اور اس کے دو لڑکیاں ہیں جو چل پھر نہیں سکتی تو کیا اسے ہم زکواۃ فطرہ صدقہ وغیرہ دے سکتے ہیں یا نہیں ؟؟ 
برائے مہربانی اس کا جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں عنایت فرماءیں کرم ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*فخرازھرچینل لنک*
https://t.me/fakhreazhar
*🔸سائل محمد زبیر عالم قادری لاتیہار (جھارکھنڈ)🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*الجواب بعون الملک الوھاب*
اگر وہ بیوہ یا انکی بیٹیاں صاحب نصاب نہ ہو اگر ہو بھی تو اسکی حاجت اصلیہ میں مستغرق ہو تو اسے زکوۃ فطرہ دے سکتے ہیں، اگر مالک نصاب ہو اور اسکی حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو تو نہیں دے سکتے ،  

📜قال اللہ تعالی فی القرآن المجید؛ 
*" اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِي الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِيْنَ وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ "*
*(📔پ۱۰، التوبۃ : ۶۰)*
ترجمہ "صدقات فقرا و مساکین کے لیے ہیں اور انکے لیے جو اس کام پر مقرر ہیں اور وہ جن کے قلوب کی تالیف مقصود ہے اور گردن چھڑانے میں اور تاوان والے کے لیے اور ﷲ کی راہ میں اور مسافر کے لیے، یہ ﷲ کی طرف سے مقرر کرنا ہے اور ﷲ علم و حکمت والا ہے۔"

📃صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ ہو مگر نہ اتنا کہ نصاب کو پہنچ جائے یا نصاب کی قدر ہو تو اُس کی حاجتِ اصلیہ میں مستغرق ہو، مثلاً رہنے کا مکان پہننے کے کپڑے خدمت کے لیے لونڈی غلام، علمی شغل رکھنے والے کو دینی کتابیں جو اس کی ضرورت سے زیادہ نہ ہو
*(📕بحوالہ؛ الدرالمختار کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۳ ۳۴۰-حوالہ بہار شریعت جلد اول حصہ پنجم)*

🔖جو شخص مالک نصاب ہو (جبکہ وہ چیز حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو یعنی مکان، سامان خانہ داری، پہننے کے کپڑے، خادم، سواری کا جانور، ہتھیار،اہلِ علم کے لیے کتابیں جو اس کے کام میں ہوں کہ یہ سب حاجتِ اصلیہ سے ہیں اور وہ چیز ان کے علاوہ ہو، اگرچہ اس پر سال نہ گزرا ہو اگرچہ وہ مال نامی نہ ہو) ایسے کو زکاۃ دینا جائز نہیں ۔
*(📓بحوالہ؛ ردالمحتار کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في حوائج الأصلیۃ، ج۳، ص۳۴۶۔حوالہ؛ ایضا )*
جس بچہ کی ماں مالک نصاب ہے، اگرچہ اس کا باپ زندہ نہ ہو اُسے زکاۃ دے سکتے ہیں
*(📚بحوالہ؛ الدرالمختار‘ کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳،حوالہ بہار شریعت جلد اول حصہ پنجم)*

*🔸واللّٰه تعالیٰ اعلم 🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی مانخورد ممبئی*
*🗓 ۲۰ رمضان المبارک ۴۴۱؁ھ مطابق ۱۴ مئی ٠٢٠٢؁ء بروز جمعرات*
*رابطہ* https://wa.me/+919167698708
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مفتی محمد احمد نعیمی صاحب قبلہ چترویدی نئی دہلی*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث وجواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ