جمعہ، 7 فروری، 2020

فقط لفظ "سلام" کہنے سے بھی سلام ہو جائے گا؟

0 comments
*❣فقط لفظ "سلام" کہنے سے بھی سلام ہو جائے گا؟❣*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کوئی پورا سلام نہ کرے صرف (سلام) بولے تو جواب دینا واجب ہے؟
*🌹سائلہ کنیز فاطمہ🌹*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*الجواب بعون الملک الوھاب* صورت مسئولہ میں سلام ہوجائے گا اور اسکا جواب دینا واجب ہے 

📃بہار شریعت میں ہے 
بعض کہتے ہیں "سلام" اس کو بھی سلام کہا جاسکتا ہے قرآن مجید میں ہے کہ ملائکہ جب ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ *("فَقَالُوْا سَلٰمًا"* انھوں نے آکر سلام کہا،) اس کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی "سلام" کہا یعنی اگر کسی نے کہا "سلام" تو "سلام" کہہ دینے سے جواب ہوجائے گا۔
مذکورہ آیت کریمہ : سورۃ الحجر کی ہے

*( 📚بہار شریعت، جلد سوم، ح شانزدہم )*

*(نوٹ: لیکن پورا سلام کرنا چاہیے جو سنت طریقہ ہے تاکہ ثواب بھی زیادہ ملے)*

*🌹واللّٰه تعالیٰ اعلم 🌹*

اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*شرف قلم: اسیر حضور اشرف العلماء (علیہ الرحمہ) ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی، مانخورد ممبئی*
*🗓 ۸ فروری ۲۰۲۰ ء مطابق ۱۳ جمادی الآخر ۱۴۴۱ ھ بروز سنیچر*
https://wa.me/+919167698708
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸فخر ازھر گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917542079555
https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فـــخـــر ازھـــر گــروپ*
*محمدایـوب خان یارعلوی بہرائچ شریف*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

جمعرات، 6 فروری، 2020

حالت کوما میں قضا ہونے والی نماز کا حکم

0 comments
*❤️حالت کوما میں قضاء ہونے والی نماز کا حکم؛❤️*

*السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*حضرت میرا ایک سوال ہے کہ میرا ساتہی دو سال سے کوما میں تھے اور اب وہ کوما سے باہر آچکے ہیں* 
*کوما میں رہنے سے جو دوسال کی نماز جو قضأ ہو گئ ہیں اسکا کیا حکم ہے* 
*سکون قلب کے ساتھ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرما ئیں*
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆
*وعلیکم السلامورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*✍️الجواب بعون الملک الوھاب"*

*صورت مسئولہ میں ان نمازوں کی قضا نہیں، وہ ایک ایسا عذر تھا جس سے نماز ساقط ہوگئی ؛ بیمار جب سر سے بھی اشارہ نہ کرسکے تو نماز ساقط ہے اس کی ضرورت نہیں کہ آنکھ یا بھوں یا دل کے اشارے سے پڑھے ، پھر اگر چھ وقت اِسی حالت میں گزر گئے تو ان کی قضا بھی ساقط ہے، فدیہ کی بھی حاجت نہیں اور اگر ایسی حالت کہ چھ وقت سے کم گزرے تو صحت کے بعد قضا فرض ہے چاہے اتنی ہی صحت ہوئی کہ سر کے اِشارے سے پڑھ سکے۔*

*📗بہار شریعت میں ہے۔۔* 
*کسی نے اوّل وقت میں نماز نہ پڑھی تھی اور آخر وقت میں کوئی ایسا عذر پیدا ہو گیا، جس سے نماز ساقط ہو جاتی ہے مثلاً آخر وقت میں حیض و نفاس ہو گیا یا جنون یا بے ہوشی طاری ہوگئی تو اس وقت کی نماز معاف ہوگئی، اس کی قضا بھی ان پر نہیں ہے، مگر جنون و بے ہوشی میں شرط ہے کہ علی الاتصال یعنی لگاتار پانچ نمازوں سے زائد کو گھیر لیں ، ورنہ قضا لازم ہوگی۔* 

*📘(حوالہ : بہار شریعت،جلد اول،حصہ سوم، بحوالہ : عالمگیری، ردالمحتار)*

*واللہ تعالی اعلم باالصواب*
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆
*✍ازقلـــم:-اسیـــر حضـــور اشـــرف العــلــمـاء ابـــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
*مورخہ؛ ۱۲ جمادی الآخرۃ 1441ھ*
 *رابطہ؛ 9167698708*

*♦فــخــر ازھـــر گــروپ♦*
*شــامــل هــونـــے كــے ليـــے رابطـــــه فـــــرمــــائيـــــں*👇👇👇👇
*https://t.me/Fakhr_e_Azhar*
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆
*المشتــہر؛* 
*اسيــرتـاج الشـر يعــه خـاكسـار*
*غــــلام احمــــد رضــــا نــــــورى*
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆

بدھ، 5 فروری، 2020

مسلمان کا عیسائی لڑکی سے نکاح کرنا کیسا؟

0 comments
*‭‮‭‮ _◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
*_مسلمان کاعیسائ لڑکی سے نکاح کرناکیساہے؟_*
*‭‮‭‮ _◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
*🌹 _اَلسَـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ_ 🌹‎*
*_★★ــــــــــــ♥🌸🌸🌸♥ــــــــــــ★★_*
 *_📜کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ موجودہ دور میں کرسچن (عیسائی) لڑکی سے مسلمان لڑکے کا نکاح کرنا کیسا ؟ زید کا کہنا ہے کہ اہل کتاب سے نکاح جائز ہے۔ اور زید کا یہ بھی کہنا کہ شادی کے بعد اگر اسکا دل اسلام کی طرف مائل ہوا تب اسے کلمہ پڑھا دیا جائےگا۔ کیا کلمہ پڑھانے سے پہلے اس سے نکاح کر سکتے ہیں ؟ اور کیا موجودہ کرسچن اہل کتاب ہے اور ان کی عورتوں سے نکاح کا کیا حکم ہے ؟ علمائے کرام تفصیلی جواب ارسال فرما کر رہنمائی فرمائیں۔_*      
*_🍀ساٸل:پٹھان معین رضا،پیٹلاد،گجرات_🍀*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
 _*الحلقــــة العلميــــــه ٹیلیگـــرام :https://t.me/alhalqatulilmia*_ 
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*🌹 _وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ_ 🌹*

_*♥الجـــــــواب بـعــون الملک الـوہاب♥*_ 

*_🎗صورت مسئولہ میں زید کا قول درست نہیں ،موجودہ دور میں اہل کتاب ہی کہاں رہے؟، ان سے نکاح ہرگز جائز نہیں، يہود و نصاری اہل کتاب تو ہيں مگر اس بنا پر انہیں اہل ایمان نہیں کہا جاسکتا، فی الوقت ان کے مذاہب باطل ہیں اور دين اسلام کے سوا کوئی اور دين قابل قبول نہيں۔_*

*_(📖قال اللہ تعالی فی القرآن المجید:"ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ من الخسرین)"ترجمۂ::اور جو اسلام کے سو ا کوئی دين چاہے گاوہ ہر گز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت ميں زياں کاروں(یعنی نقصان اٹھانے والوں میں) سے ہے۔(سورۂ ال عمران آیت ۷۵)_*

*_🎗مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہيں :''جو کوئی اسلام کے سوا کوئی دوسرا دين تلاش کرے يا نبی ﷺ کی تشريف آوری کے بعد جو کوئی ان کی شريعت کے علاوہ کسی اور دين کو تلاش کرے خواہ شرک و کفر کو يا یہودیت و نصرانیت کو کہ وہ اديان(یعنی یہودیت و نصرانیت) اپنے وقت ميں اسلام تھے اب ان کا اختيار کرنا گمراہی و کفرہے_*

*_(📚تفسير نعيمی جلد3 صفحہ ۵۷۵)_*

*_🎗یہ لوگ تثلیث کے قائل ہیں یعنی انہوں نے وحدانیت کو معاذاللہ تین حصوں میں اس طرح تقسیم کر دیا ہے:باپ ، بیٹا اور روح القدس۔ اور ان لوگوں کو واضح لفظوں میں قرآن مجید نے کافر قرار دیاہ ے۔ اب اگر کوئی ان کو''ایمان والا'' کہتا ہے تو وہ صاف صاف قران کریم کو جھٹلاتا ہے_*

*_📖قال اللہ تعالی فی القرآن المجید:"لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم وقال المسیح یبنی اسرءیل اعبدوا اللہ ربی و ربکم انہٗ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماوىہ النار وما للظلمین من انصار, لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ وما من الہ الا الہ وحد و ان لم ینتہوا عما یقولون لیمسن الذین کفروا منھم عذاب الیم "_*

*_🎗ترجمۂ: بے شک کافر ہیں وہ جو کہتے ہيں کہ اللہ وہی مسيح مريم کا بيٹا ہے اور مسیح نے تو یہ کہا تھا: اے بنی اسرائیل ! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب اور تمہارا رب، بیشک جواللہ کا شریک ٹھہرائے تواللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔ بے شک کافر ہيں وہ جو کہتے ہيں اللہ تين خداؤں ميں کا تيسرا ہے،اور خدا تو نہیں مگر ایک خدا اور اگر اپنی بات سے باز نہ آئے تو جو ان میں کافر مریں گے ان کو ضرور دردناک عذاب پہونچے گا( پ6المائدہ،۷۲,۷۳)_*

*_🎗يہودیوں میں سے جولوگ رب العزت کی وحدانیت کے قائل ہیں ان کو بھی اہل ایمان نہیں کہہ سکتے کیوں کہ اہل ایمان کے لئے توحيد پر ايمان کے ساتھ ساتھ نبی ﷺ کی رسالت پر ايمان لانا بھی ضروری ہے اور اگر کوئی اللہ عزوجل پر ايمان لائے مگر نبی ﷺ پر ايمان نہ لائے تو وہ ایمان والا یعنی مومن نہيں جيسا کہ يہود و نصاری رسول اللہﷺ پر ايمان نہ لائے تو انہيں قرآن پاک میں منکر و لعنتی قرار دیا گیا۔_*

*_📖قال اللہ تعالی فی القرآن المجید:"ولما جاءھم کتب من عند اللہ مصدق لما معھم وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ۫ فلعنۃ اللہ علی الکفرین"ترجمۂ:اور جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کی ساتھ والی کتاب (توريت) کی تصدیق فرماتی ہے اور اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشريف لايا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بيٹھے تو اللہ کی لعنت منکروں پر۔(1سورۃ البقرہ)_* 

*_📖وقال : "ان الذین کفروا بعد ایمانھم ثم ازدادوا کفرا لن تقبل توبتھم و اولئک ہم الضالون"ترجمۂ: بے شک وہ جو ايمان لا کر کافر ہوئے پھر اور کفر ميں بڑھے ان کی توبہ ہر گز قبول نہ ہو گی اوروہی ہیں بہکے ہوئے(سورۂ ال عمران)_*

*_🎗صدر الافاضل حضرت علامہ مولینا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کریمہ کے تحت تفسير خزائن العرفان ميں فرماتے ہيں :''يہ آيت يہود و نصاری کے حق ميں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی بعثت سے قبل تو اپنی کتابوں ميں نبی ﷺ کی نعت و صفت ديکھ کر نبی ﷺ پر ايمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کے ظہور کے بعد کافر ہوگئے اور پھر کفر ميں اور شديد ہو گئے۔_*

*_🎗لھذا اہل کتاب کو اہل ایمان کہنے کی کوئی گنجائش نہیں، کہ جب قرآن پاک نے یہود ونصاری کو صراحۃ کافر فرما دیا تو اب ان کو اہل ايمان کہنے کی گنجائش ہی کب رہی ! بلکہ اہل کتاب کا اپنی کتابوں پر عمل کرنے کا دعوی بھی انہيں اہل ايمان نہ کر سکے گا کہ جب ان کی کتابوں ميں نبی ﷺ کا ذکر کيا گيا تھا تو پھر بعد ميں نبی ﷺ کا انکار کرنا گويا کہ اپنی کتابوں کو نہ ماننا ہے۔_* 

*_🎗حضرت سیدنا امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ''📕تفسيرکبير'' ميں سورۃ البقرۃ کی آيت نمبر ۴۱: "ولا تکونوا اول کافرۭ بہ" 🎗(ترجمۂ:اور سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو ) کے تحت فرماتے ہیں:تاجدار نبی ﷺ کی رسالت کو سب سے پہلے جھٹلا کر اپنی کتابوں کو جھٹلانے والے نہ بنو اس لئے کہ تمہارا نبی ﷺ کو جھٹلانا اپنی کتابوں کے جھٹلانے کو لازم کرتا ہے ۔_*

*_(📗تفسيرکبير،ج ۱ ص ۴۸۳ )_*

 *_🎗اگر کوئی يہودی يا عيسائی شرک چھوڑ بھی دے اور توحید حقیقی کا اقرار کر بھی لے مگر جب تک وہ نبی ﷺ کو نبی نہ مانے اہل ایمان نہیں ہو سکتا وہ یقینا قطعا کافر،کافر اور کافر ہی ہے اور کافر بھی ایسا کہ اسے ایمان والا یعنی مومن کہنے والا خود کافر ہے ۔ (📘مجمع الانھر ميں ہے:يہودی يا عيسائی اگر صرف يہ کہے:ل "آ الہ الا اللہ" یعنی''اللہ عزوجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں'' وہ مسلمان نہ ہوگا جب تک محمد ﷺ اللہ عزوجل کے رسول ہیں'' نہ کہہ لے۔_*

*_(📚مجمع الانھرج ۲ ص ۵۰۳)_*

*_🎗بلکہ کسی ایک نبی کو نبی ماننے سے انکار کرنا بھی کفرہے ۔فقہائے کرام رحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں : جو کوئی انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام ميں سے بعض انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو نہ مانے يا جو انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہو اس پر راضی نہ ہو تویقینا اس نے کفر کیا ۔_*

*_(📕عالمگیری ج ۲ ص ۲۶۳)_*

 *_🎗بہرحال نبی ﷺ پر ايمان نہ لانا، آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوآخری نبی نہ ماننا اور اپنے دین کو چھوڑ کر نبی ﷺ کے لائے ہوئے دین مبین کو نہ اپنانا یہود و نصاری کا خالص کفر ہے کہ اب اہل ایمان یعنی مومن ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ نبی ﷺ کے لائے ہوئے دین متین کی تصدیق کرنے والا اور اس پر بلاچون وچرا ایمان لانے والا ہو۔مجمع الانھر ميں ہے:''جو کوئی محترم نبی ﷺ کو آخری نبی نہ جانے تووہ مسلمان نہيں ۔_*

*_(📗مجمع الانھرج ۲ ص ۵۰۶)_*

*_🎗تو چونکہ یہود و نصاری کا اہل ايمان ہونا نہ قران پاک سے ثابت ہے نہ احاديث مبارکہ سے لہذا ان کو اہل ايمان کہنا قطعی کفر ہے کیونکہ کافر کو کافر جاننا ضروريات دين ميں سے ہے۔ چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہيں:جب کسی نے ايسی بات کا انکار کيا جس کاضروريات دين اسلام سے ہونا متفق عليہ(یعنی جس پر سبھی اہل اسلام کا اتفاق ہونا) معلوم ہے خواہ اس ميں نص ہو يا نہ تو اس کا انکار کفر ہے۔_*

*_(📘فتاوی رضويہ ج ۱۴ ص ۳۳۹)_*

 *_🎗الحاصل : فی زمانہ وہ اصل کتابی نہ رہے جو نبی کریم ﷺ کے ظاہری حیات دنیاوی زندگی میں تھے اس لئے اس دور کی کتابی خاتون سے جو فی زمانہ اصل کتب سماویہ پہ عقیدہ نہیں رکھتے بالکل برعکس عقیدہ اختیار کر چکے اس لئے موجود وقت کی کتابیہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے ۔_*

*_(📚ماخوذ از : کفریات کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص ۵۳۶ تا ۵۴۵)_*
     
      *🌹 _واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب_ 🌹*
*_★★★ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ★★★_* 
_*🗓(04)فروری،بروز منگل(2020)عیسوی*_ 
*_🗓(09)جمـادی الاخــر(1441)ھجــــــــــری_*
*_★★★ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ★★★_*
         *📝 _شــــــــرف قلـــــــم_ 📝*
_*اسیـــــــــر حضـــور اشــــــرف العــلــمـاء،ابـــــو حنـــیـــفـــہ محمــــــــــد اکـبــــر اشــــــــــرفــی رضـــــــــــــوی، مانخـــــــورد مـــمـــبـــئــــــــــی*_ 
 *_رابطــــہ نمبــــر📞 919167698708_ +☎*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_✅✅الجـــــــواب صحیح والمجیب نجیح ماشاءاللہ، بہت عمدہ،اہل کتاب اب رہے بھی نہیں، اور عیسائیـــوں کی بائبل کتاب خـــود ساختہ ،حضرت عیسی علیہ الصلواۃ والسلام پر نازل ہونی والی کتاب "انجیــــل" منــزل من السماء انہوں نے نہیں رکھی بلکہ تحریفیں کیں، حضرت مفتى محمد مشیر اسد رشیدی امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی جنتا ہاٹ آسجہ موبیہ تھانہ بائسی ضلع پورنیہ {بہار}_*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_✅✅الجـــــواب صحیح،فی زمانہ وہ اصل کتابی نہ رہے جو نبـــی کریم علیـــہ الصلوات والسلام کے ظاہری حیات دنیاوی زندگی میں تھے اس لئے اس دور کی کتابی خاتون سے جو فی زمانہ اصل کتب سماویہ پہ عقیدہ نہیں رکھتے بالکل برعکس عقیدہ اختیار کر چکے اس لئے موجود وقت کی کتابیہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے ۔مفتی عبدالوہاب رضوی اشرفی صاحب قبلہ، خطیب و امام شاہـــی جمعــــــہ مسجــــــــد احمـــــــــد آبـاد (الہنـــــــــــــــــد)_*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_✅✅الجواب صحیح سید فیضان القادری رضــــوی صــــاحب قبلـــــہ، بنــــارس یــوپــی_*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_✅✅فقیر نے مکمل پڑھا اور قابلِ اطمنان پایا، البتہ جواب کی طوالت باعثِ ملول خاطر ہوگی،اختصار کی ضرورت ہے،ویســـــے بطورِ رسالہ بہتر جــــــواب ہـــــے،مــــولانا سیــــــــــد شمس الحق برکاتــــــــی صاحب قبلــــــــــــــــہ_*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
         *☘الحلقـــة العلمیــــــه گروپ☘*
*_میں شامل ہونے کے لیے رابطہ کریں محمــــد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛_*
*_رابطــــہ نمبــــــر📞 +919879474138_☎*
 _◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆_ 
                  *🖥المشتہــــــر🖥*
*_محمــد نــوشــاد عـالـم کٹیہــاربہــار الھنــــــــد_*
*_رابطـــــہ نمبــــــر📞+919934959535_ ☎*
*•─────────────────────•*
    *💙 _(الحلقـــــةالعلمیـــــه گـروپ)_ 💙*
*•─────────────────────•*

منگل، 28 جنوری، 2020

جمعہ سے پہلے فجر کی قضا پڑھنے کا مسئلہ

0 comments
*🌹جمعہ سے پہلے فجر کی قضا پڑھنے کا مسئلہ؛🌹*

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
؟ مسئلہ جو لوگ فجر کی نماز جمعہ میں اداکرتےہیں انکے بارے میں کیا حکم ہے

*سائل اکرم علی بلرام پور*
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆
*وَعَلَیْکُمْ اَلسَلامُ وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ*
*الجـوابـــ بعـون المـلـک الـوھـابــــــ"*

قال اللہ تعالی فی القرآن المجید:

(فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۠, الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ)

*ترجمہ ::"خرابی ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں ، وقت گزار کر پڑھنے اٹھتے ہیں "*

*📗(پ۳۰، سورۃ الماعون: ۴،۵)*

جہنم میں ایک وادی ہے ،جس کی سختی سے جہنم بھی پناہ مانگتا ہے، اس کا نام ’’ویل‘‘ ہے، قصداً نماز قضا کرنے والے اس کے مستحق ہیں  

*جو قصداً اگرچہ ایک وقت کی بھی نماز ترک کریں وہ فاسق ہے،*

اللہ عزوجل کی بارگاہ میں رجوع کریں، صدق دل سے توبہ کریں 
اور آئندہ بلا عذر شرعی قضا نہ کرنے کا عہد کریں، 

*📘(عامہ کتب فقہ و فتاویٰ)*

قضا کے لیے کوئی وقت معین نہیں عمر میں جب پڑھے گا بریٔ الذّمہ ہو جائے گا مگر طلوع و غروب اور زوال کے وقت کہ ان وقتوں میں نماز جائز نہیں ، سوتے میں یا بھولے سے نماز قضا ہوگئی تو اس کی قضا پڑھنی فرض ہے، البتہ قضا کا گناہ اس پر نہیں مگر بیدار ہونے اور یاد آنے پر اگر وقت مکروہ نہ ہو تو اُسی وقت پڑھ لے تاخیر مکروہ ہے، کہ حدیث مبارکہ میں ہے:
’’جو نماز سے بھول جائے یا سو جائے تو یاد آنے پر پڑھ لے کہ وہی اس کا وقت ہے۔‘‘ 

مگر دخول وقت کے بعد سو گیا پھر وقت نکل گیا تو قطعاً گنہگار ہوا جب کہ جاگنے پر صحیح اعتماد یا جگانے والا موجود نہ ہو بلکہ فجر میں دخول وقت سے پہلے بھی سونے کی اجازت نہیں ہوسکتی جب کہ اکثر حصہ رات کا جاگنے میں گزرا اور ظن ہے کہ اب سو گیا تو وقت میں آنکھ نہ کھلے گی
صاحب ترتیب سے جمعہ کے دن فجر کی نماز قضا ہوگئی اگر فجر پڑھ کر جمعہ میں شریک ہوسکتا ہے تو فرض ہے کہ پہلے فجر پڑھے اگرچہ خطبہ ہوتا ہو اور اگر جمعہ نہ ملے گا مگر ظہر کا وقت باقی رہے گا جب بھی فجر پڑھ کر ظہر پڑھے اور اگر ایسا ہے کہ فجر پڑھنے میں جمعہ بھی جاتا رہے گا اور جمعہ کے ساتھ وقت بھی ختم ہو جائے گا تو جمعہ پڑھ لے پھر فجر پڑھے اس صورت میں ترتیب ساقط ہے۔

نوٹ : (غیر صاحب ترتیب کے لیے ترتیب ساقط،) 

*📙(بہار شریعت، جلد اول، ح ۴)*

*والله تعالیٰ اعلم بالصواب؛*

گنہگاران امت پر الہی مہر ہو تیری
آمین
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆
*✍ازقلـــم:-اسیـــر حضـــور اشـــرف العــلــمـاء ابـــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
*مورخہ؛ 2 جمادی الآخرۃ 1441ھ*
 *رابطہ؛ 9167698708*

*✅لقد صح الجواب 28/ 01/2020 حضرت مفتی ابوالقاسم رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی*

*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح ، حضرت مفتی محمد اختر علی واجد القادری الحنفی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی، خادم شمس العلما دار الافتاء و القضاء ،جامعہ اسلامیہ میراروڈ ممبئی*

*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مولانا محمد امین قادری رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی' دیوان بازار مراداباد یوپی الہند*

*✅الجواب صحیح*
*حضرت مولانا سید فیضان القادری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی بنارس*

*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مفتى محمد مشیر اسد رشیدی امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی جنتا ہاٹ آسجہ موبیہ تھانہ بائسی ضلع پورنیہ {بہار}*

*♦فــخــر ازھـــر فقــہــى گــروپ♦*
*شــامــل هــونـــے كــے ليـــے رابطـــــه فـــــرمــــائيـــــں*👇👇👇👇
*https://wa.me/919455005223*
*https://t.me/Fakhr_e_Azhar*
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆
*المشتــہر؛* 
*اسيــرتـاج الشـر يعــه خـاكسـار*
*غــــلام احمــــد رضــــا نــــــورى*
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆

جمعہ، 24 جنوری، 2020

آئینہ کے سامنے و چوڑی دار پاجامہ میں نماز کا حکم

1 comments

*❣آئینہ کے سامنے و چوڑی دار پاجامہ میں نماز کا حکم❣*

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 ۱) کیا چوڑیدار پاجامہ میں عورت کی نماز نہیں ہوتی ہے؟ 
۲) آئینہ کے سامنے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ 
*🌹سائلہ: آفرین بانو، میرا روڈ🌹*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*📝الجواب بعون الملک الوھاب:⇩*
۱) صورت مسئولہ میں اگر اس پاجامہ میں بدن چمکتا ہو تو نماز نہیں ہوگی اور اگر نہیں چمکتا ہو تو نماز ہو جائے گی

📄جیسے کہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اتنا باریک کپڑا، جس سے بدن چمکتا ہو، ستر کے لیے کافی نہیں ، اس سے نماز پڑھی، تو نہ ہوئی۔یوہیں اگر چادر میں سے عورت کے بالوں کی سیاہی چمکے، نماز نہ ہوگی۔بعض لوگ باریک ساڑیاں اور تہبند باندھ کر نماز پڑھتے ہیں کہ ران چمکتی ہے، ان کی نمازیں نہیں ہوتیں اور ایسا کپڑا پہننا، جس سے ستر عورت نہ ہوسکے، علاوہ نماز کے بھی حرام ہے۔
دبیز کپڑا، جس سے بدن کا رنگ نہ چمکتا ہو، مگربدن سے بالکل ایسا چپکا ہوا ہے کہ دیکھنے سے عضو کی ہیأت معلوم ہوتی ہے، ایسے کپڑے سے نماز ہو جائے گی، مگر اس عضو کی طرف دوسروں کو نگاہ کرنا جائز نہیں ۔ اور ایسا کپڑا لوگوں کے سامنے پہننا بھی منع ہے اور عورتوں کے لیے بدرجۂ اَولیٰ ممانعت۔ بعض عورتیں جو بہت چست پاجامے پہنتی ہیں ، اس مسئلہ سے سبق لیں ۔
*(📕حوالہ: بہار شریعت، جلد اول حصہ سوم شرائط نماز)*

۲) صورت مسئولہ میں آئینہ کے سامنے نماز ہو جائے گی، نماز ہو جائے گی، کہ وہ تصویر کے حکم میں نہیں، اگر تصویر کا حکم دینگے تو آئینہ رکھنا ہی ناجائز ہو جائے گا جبکہ بالاجماع جائز ہے ، اگر خشوع و خضوع میں خلل ہو تو بہتر یہ ہی ہے کہ آئینہ کے سامنے ہرگز نماز نہ پڑھیں
*( 📚ماخوذ از: فتاوی امجدیہ، جلد اول / وقار الفتاوی، جلد دوم )*


*🌹واللّٰه تعالیٰ اعلم 🌹*
اـــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*شرف قلم: اسیر حضور اشرف العلماء (علیہ الرحمہ) ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی، مانخورد ممبئی*
*🗓 ۲۵ جنوری ۲۰۲۰ ء مطابق ۲۹ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بروز سنیچر*
اــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــ
*🔸سنی تبلیغی مشن (خواتین گروپ) 🔸* https://wa.me/+919167698708
اـــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی*
اـــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــ

پیر، 20 جنوری، 2020

قبلہ کی طرف سہوا یا قصداً پیر کرنے کا حکم

0 comments
*📌قبلہ کی طرف سہواً (بھول)  یا قصداً (جان بوجھکر) پیر کرنے پر حکم📌*

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ حضرات خیریت سے ہونگے بعدہ علماء ذوی الاحترام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ اگر کوئی شخص قصداً جانب قبلہ پاؤں کرے تو شرع شریف میں اس کے لئے کیا حکم ہے نیز اگر سہواً کرے تو کیا حکم ہے رہنمائی فرمائیں اگر ممکن ہو تو ادلۂ اربعہ سے ثابت کریں بڑی مہربانی ہوگی فقط والسلام 
*🌹سائل مجاھد رضا کیتھولیا ضلع سدھارتھ نگر یوپی🌹*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*📝الجواب بعون الملک الوھاب:⇩*
📃قال اللہ تعالی فی القرآن المجید:
*"وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ"*
*( 📓سورۃ الحج آیت نمبر؛ ۳۰ )*
ترجمہ : (اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کیلئے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں  کی تعظیم کرنے پر ابھارتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو شخص ان چیزوں  کی تعظیم کرے جنہیں اللہ تعالیٰ نے عزت و حرمت عطا کی ہے تو یہ تعظیم اُس کے لئے بہتر ہے کہ اِس پر اللہ تعالیٰ اُسے آخرت میں ثواب عطا فرمائے گا۔
*(📔بحوالہ : البحر المحیط، الحج، تحت الآیۃ: ۳۰، ۶ / ۳۳۹، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۳۰، ۶ / ۲۹، ملتقطاً،، حوالہ : صراط الجنان)*

📑 اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کے بارے میں مفسرین کا تیسرا قول یہ ہے کہ ان سے وہ مقامات مراد ہیں جہاں حج کے مناسک ادا کئے جاتے ہیں  جیسے بیت ِحرام ، مَشْعَرِ حرام، بلد ِحرام اور مسجد ِحرام وغیرہ اور ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان کے حقوق اور ان کی عزت و حرمت کی حفاظت کی جائے۔
*(📕بحوالہ: مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۷۳۸، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳ / ۳۰۷، ملتقطاً، حوالہ: صراط الجنان)*

📌احادیث مبارکہ میں بھی حرم شریف کی تعظیم پر حکم دیا گیا ہے، بے حرمتی ہلاکت پر دال ہے 

🔎صورت مسئولہ میں اگر سہوا ایسا ہوا تو کوئی مواخذہ نہیں، اگر خانہ کعبہ کی توہین مقصود ہو تو ایسا شخص کافِر و مُرتَد ہوگیا لیکن یہ کسی مسلمان سے متصور نہیں (یعنی مسلمان کے بارے میں ایسا گمان نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خانہ کعبہ کی توہین کے لئے قبلہ رخ پیر کیا ہے)
اور اگر تحقیر کی نیّت نہ ہو تو کافِر نہ ہوگا مگر پھر بھی قبلہ رُو پیر رکھنے سے بچنا چاہئے، کہ یہ ادب کے خلاف ہے ، حرمت والی مقامات کی تعظیم لازم ہے
*(📂ماخوذ از : کفریات کلمات کے بارے میں سوال جواب)*

 🎁اِس ضِمن میں ایک سبق آموز حکایت
 اِمامِ اَہلسنّت فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا ابو یزید بسطامی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عمی بسطامی کے والِد  سے فرمایا : چلو اُس شخص کو دیکھیں  جس نے اپنے آپ کو بنامِ وِلایت مشہور کیا ہے  ۔ وہ شخص مَرجَعِ ناس و مشہورِ زُہد تھا ، (یعنی عقیدتمندوں کا اُس کے پاس ہُجوم رہتا تھا اور دنیا سے بے رغبتی میں اُس کی شہرت تھی)جب وہاں   تشریف لے گئے اِتَّفاقاً اُس نے قبلہ کی طرف تھوکا ، حضرت ِ سیِّدُنا ابو یزید بسطامی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فوراً واپَس آئے اور اس سے سلام علیک نہ کی اور فرمایا : یہ شخص رسول ﷺ کے آداب سے ایک ادب پر تواَمین ہے نہیں، جس چیز کا دعویٰ رکھتا ہے اُس پر کیا امین ہوگا
*(📘بحوالہ : فتاوٰی رضویہ ج ۲۱ ص۵۳۹،حوالہ : کفریات کلمات کے بارے میں سوال جواب،ص ۸۲)*

📃اور دوسری رِوایت میں ہے ، فرمایا :  یہ شخص شریعت کے ایک ادب پر تو امین ہے نہیں  اَسرارِ اِلہٰیّہ پرکیوں   کر امین ہوگا 
*(📚اَیضاً ص ۲۹۲، ایضاً ص ۸۲)*

*🌹واللّٰه تعالیٰ اعلم 🌹*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*شرف قلم: اسیر حضور اشرف العلماء (علیہ الرحمہ) ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی، مانخورد ممبئی*
*🗓 ۱۲ جنوری ۲۰۲۰ ء مطابق ۱۶ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بروز اتوار* https://wa.me/+919167698708
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت علامہ و مولانا تاج محمد واحدی صاحب قبلہ اترولہ*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*🔸 اعلیٰ حضرت زندہ باد گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+919918562794
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ

جمعرات، 9 جنوری، 2020

محض شک کے بنا پر وضو نہیں ٹوٹتا

0 comments
*❣محض شک کے بنا پر وضو نہیں ٹوٹتا❣*


السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالٰی وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ اگر وضو کے نا ہونے میں شک ہو اور یہ زندگی میں پہلی بار ہوا ہو تو اب کیا حکم ہوگا اس بارے میں اور اگر یہ روزانہ ہوا تو کیا حکم ہوگا
برائے مہربانی مدلّل جواب عنایت فرما کر ممنون و مشکور ہوں
*🌹سائل عبدالکلام رضوی بریلی شریف یوپی🌹*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*📝الجواب بعون الملک الوھاب:⇩*
اگر دَورانِ وُضو کسی عُضْو کے دھونے میں شک واقِع ہو اور اگر یہ زندَگی کا پہلا واقِعہ ہے تو اِس کو دھو لیں اور اگر اکثر شک پڑا کرتا ہے تو اس کی طرف توجُّہ نہ دیں اِسی طرح اگر بعدِ وُضو بھی شک پڑے تو اِس کا کچھ خیال نہ لیں
*(📓بحوالہ : بہارِشریعت ج ۱ص۳۱۰،حوالہ : وضو کا طریقہ رسالہ دعوت اسلامی)*

📌 آپ باوُضو تھے اب شک آنے لگا کہ پتا نہیں وُضو ہے یا نہیں ، ایسی صورت میں آپ با وُضو ہیں کیونکہ صرف شک سے وُضو نہیں ٹوٹتا ۔
*(📕اَیْضاً ص۳۱۱)*

💫وسوَسے کی صورت میں اِحتیاطاً وُضو کرنا اِحتیاط نہیں اِتِّباعِ شیطان ہے
*(اَیْضاً)*
یقینا آپ اُس وقت تک باوُضو ہیں جب تک وُضو ٹوٹنے کا ایسا یقین نہ ہوجائے کہ قَسَم کھاسکیں
 کوئی عُضْو دھونے سے رَہ گیا ہے مگر یہ یاد نہیں کون سا عُضْو تھا تو بایاں ( یعنی اُلٹا ) پاؤں دھولیجئے ۔
*(📚بحوالہ : دُرِّمُختار ج ۱ ص ۳۱۰، حوالہ : وضو کا طریقہ رسالہ دعوت اسلامی)*

*🌹واللّٰه تعالیٰ اعلم 🌹*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*شرف قلم: اسیر حضور اشرف العلماء ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی، مانخورد ممبئی*
*🗓 ۹ جنوری ۲۰۲۰ ء مطابق ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بروز جمعرات* https://wa.me/+919167698708
*✅الجواب صحیح والمجیب حضرت علامہ و مولانا محمد اختر رضا قادری صاحب قبلہ سرکھیت نیپال*
*✅الجواب صحیح وصواب حضرت علامہ و مولانا محمد امین قادری رضوی صاحب قبلہ دیوان بازار مراداباد یوپی*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ

بلا اجازت شرعی بھیک مانگنا حرام ہے

0 comments
*❣بلا اجازت شرعی بھیک مانگنا حرام ہے❣*


السلام علیکم ورحمة اللّٰه وبرکاته
علماء کرام رہنمائی فرمائیں مارکیٹوں میں جو فقیر بھیگ مانگتے ہے ان کو پیسے دے سکتے ہے یا نہیں اور اگر مانگنے والی عورت ہو اس کو دے سکتے ہے یا نہیں اس پر ثواب ملے گا یا نہیں؟
*🌹سائل علی رضا کراچی پاکستان🌹*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*📝الجواب بعون الملک الوھاب ⇩*
شرعی فقیر ہے تو دے سکتے ہیں اور ثواب بھی ملیگا، مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں تک کہ کھانے اور بدن چھپانے کے لئے اس کا محتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے اور اسے سوال حلال ہے، فقیر کو سوال ناجائز ہے جس کے پاس کھانے اور بدن چھپانے کو ہو اُسے بغیر ضرورت و مجبوری سوال حرام ہے
*(📕بحوالہ ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۷۔حوالہ: بہار شریعت حصہ پنجم )*

💫آج کل بھیک مانگنا پیشہ بن گیا ہے جو کہ سخت حرام ہے جو بِلا اجازتِ شرعی مختلف انداز میں بھیک مانگ کر دوذخ کے انگارے جمع کر رہے ہوتے ہیں، 
حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص مال بڑھانے کے لئے بھیک مانگے تو وہ انگارہ مانگتا ہے اب چاہے کم کرے یا زیادہ۔
*(📘بحوالہ : مسلم، ص 401، حدیث: 2399 ، حوالہ : ماہنامہ فیضان مدینہ،دعوت اسلامی، شوال المکرم ۱۴۳۸)*
📌یعنی بِلا سخت ضرورت بھیک مانگے، بقدرِ حاجت مال رکھتا ہو، زیادتی کے لئے مانگتا پھرے وہ گویا دوزخ کے انگارے جمع کررہا ہے، چونکہ یہ مال دوزخ میں جانے کا سبب ہے اسی لئے اسے انگارہ فرمایا۔ 
*(📓بحوالہ : مراٰۃالمناجیح،ج3،ص55، حوالہ : ماہنامہ فیضان مدینہ،دعوت اسلامی، شوال المکرم ۱۴۳۸)*

🎁بلا اجازت شرعی بھیک مانگنا بھی حرام، دینا بھی حرام ہے 

امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: قَوی، تندرست، قابلِ کسب (یعنی کمانے کے قابل) جو بھیک مانگتے پھرتے ہیں ان کو دینا گناہ ہے ان کا بھیک مانگنا حرام ہے اور ان کو دینے میں اس حرام پر مدد ہے، اگر لوگ نہ دیں تو جَھک ماریں اور کوئی پیشہ حلال اختیار کریں۔

📄درِّمختار میں ہے: یہ حلال نہیں کہ آدمی کسی سے روزی وغیرہ کا سوال کرے جبکہ اس کے پاس ایک دن کی روزی موجود ہو یا اس میں اس کے کمانے کی طاقت موجود ہو، جیسے تندرست کمائی کرنے والا اور اسے دینے والا گنہگار ہوتا ہے اگر اس کے حال کو جانتا ہے کیونکہ اس نے حرام پر اس کی مدد کی ہے۔
*(📂بحوالہ : در مختار مع ردالمحتار،ج 3،ص357، فتاویٰ رضویہ،ج 23،ص464،،،حوالہ : ماہنامہ فیضان مدینہ،دعوت اسلامی، شوال المکرم ۱۴۳۸)*
🔖ادنیٰ کام کرکے روزی کمانا ،بھیک مانگنے سے بہتر ہے: ہر مسلمان کو چاہئے کہ دوسروں کے مال پر نظر رکھنے کے بجائے خود رزقِ حلال کمائے، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اپنی رسّی لے کر پہاڑ کی طرف جائے پھر لکڑیاں اکٹھی کرے اور ان کا گٹھا بنا کر اپنی پیٹھ پر لاد کر بازار میں لے جائے اور انہیں فروخت کر کے اس کی قیمت سے اپنے کھانے پینے کا بست کرے تو یہ اس کے لئے بھیک مانگنے سے بدرجہا بہتر ہے اور یہ  مٹّی لے کر اپنا منہ بھرلے تو اس کے لئے اس سے بہتر کہ جس چیز کو اللہ تعالٰی نے حرام کیا ہے اسے اپنے منہ میں ڈالے۔ 
*(📕بحوالہ: مسند امام احمد،ج 3ص68، حدیث:7493,حوالہ : ماہنامہ فیضان مدینہ،دعوت اسلامی، شوال المکرم ۱۴۳۸ )*
🌱یعنی معمولی سے معمولی کام کرنا اور تھوڑے پیسوں کے لئے بہت سی مشقت کرنا بہتر ہے، اس سے عزت نہیں جاتی، مگر بھیک مانگنا بُرا، جس سے عزت جاتی رہتی ہے، برکت ہوتی نہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ بھکاری بھیک مانگنے میں بڑی محنتیں کرتے ہیں اگر مزدوری کریں یا چھابڑی فروخت کریں تو ان پر محنت بھی کم پڑے اور آبرو (عزت ) سے بھی کھائیں۔
*(📔بحوالہ : مراٰۃالمناجیح،ج3ص56، ملخصاً،حوالہ : ماہنامہ فیضان مدینہ،دعوت اسلامی، شوال المکرم ۱۴۳۸ )*
🔎 بھیک مانگنے والا دنیا میں تو ذلیل و رسوا ہوتا ہی ہے، بروزِ قیامت بھی اسے رسوائی کا سامنا ہوگا، حضورﷺ نے فرمایا:”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہ ہوگا۔“
*(📘بحوالہ : بخاری،ج 1ص497، حدیث: 1474،حوالہ : ماہنامہ فیضان مدینہ،دعوت اسلامی، شوال المکرم ۱۴۳۸ )*
📑مراٰۃُ المناجیح میں ہے: یعنی پیشہ وربھکاری اور بِلا ضرورت لوگوں سے مانگنے کا عادی قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے میں صرف ہڈی اور کھال ہوگی گوشت کا نام نہ ہوگا۔ جس سے محشر والے پہچان لیں گے کہ یہ بھکاری تھا، یا یہ مطلب ہے کہ اس کے چہرے پر ذِلَّت و خواری کے آثار ہوں گے، جیسے دنیا میں بھی بھکاری کا منہ چھپا نہیں رہتا، لوگ دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ سائل ہے۔
*(📚بحوالہ : مراٰۃالمناجیح،ج3،ص56،حوالہ : ماہنامہ فیضان مدینہ،دعوت اسلامی، شوال المکرم ۱۴۳۸ )*

*🌹واللّٰه تعالیٰ اعلم 🌹*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*شرف قلم: اسیر حضور اشرف العلماء علیہ الرحمہ ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی، مانخورد ممبئی*
*🗓 ۱۰ جنوری ۲۰۲۰ ء مطابق ۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۱ ھ بروز جمعرات* https://wa.me/+919167698708
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت علامہ و مفتی الفاظ قریشی نجمی صاحب قبلہ کرناٹک*
ماشاءاللہ 
براہین و دلائل سے مزین 
بہت ہی عمدہ 
*✅الجواب صحیح و المجیب نجیح*
*العبد الاثیم :- محمد جابر القادری رضوی مسجد نور جاجپور اڑیسہ*
مجیب کے زور قلم میں مزید قوت ملے آمین
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی*
اــــــــــــــــــــــــــ❣⚜❣ـــــــــــــــــــــــــ

ہفتہ، 16 نومبر، 2019

حالت نشہ میں کلمۂ کفر بکنے والے کی نماز جنازہ کا حکم

0 comments
*🔹حالت نشہ میں کلمۂ کفر بکنے والے کی نماز جنازہ کا حکم؛🔹* 

گروپ میں تشریف فرما علماء و باوقار مفتیان عظام سے گزارش ہےکہ ۔ ایک شرابی مسلمان نشے کی حالت میں دو چار لوگوں کے سامنے کہا کہ اسلام سے اچھا ہندو دھرم ہے میں کافر ہوں، میں ابھی سور، کا گوشت کھا کر آرہا ہوں وغیرہ اور بعد نشہ مسلمانوں جیسا برتاؤ کرتا ہے کچھ دنوں کے بعد وہ شخص مر گیا اب اسکی جنازہ پڑھی جاۓ اور اس کو مسلمانوں کی قبرستان میں دفنایا جائے یا نہیں با حوالہ مدلل جواب عنایت فرمایا جاۓ بڑی مہربانی ہوگی فقط سلام مسنون

*المستفتی؛ مولانا عبد الجبار نظامی منظری*
◆ــــــــــــــــــ▫🔹▫ــــــــــــــــــ◆
*وعلیکم السلام ورحمتہ الله وبركاته*
*الجـــواب بعــون المـلــک الـــوهــاب"*

صورت مسئولہ میں اسکی جنازہ پڑھی جائے گی اور دفنایا بھی جائے گا

*نشہ کی حالت میں اگر کوئی کلمۂ کفر بکا تو اُسے مُرتد کا حکم نہ دیں گے یعنی اُس کی عورت بائِن نہ ہوگی رہا یہ کہ عندَ اللہ بھی کافِر ہوگا یا نہیں؟*

اگر قصداً کفر بکا ہے تو عِندَاللہ کافِر ہے ورنہ نہیں 

*📙(کفریات کلمات کے بارے میں سوال جواب بحوالہ، بہارِ شریعت حصّہ ۹)*

*والله تعالى اعلم بالصواب؛*
◆ــــــــــــــــــ▫🔹▫ــــــــــــــــــ◆
*✍ازقلـــم:-اسیـــر حضـــور اشـــرف العــلــمـاء ابـــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
*مورخہ؛ 16 ربیع النور 1441ھ*
*رابطہ؛ 9167698708*
*(فیضان حضرت بلال گروپ)*
◆ــــــــــــــــــ▫🔹▫ــــــــــــــــــ◆
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح العبد الاثیم خاکسار ابوالصدف محمد صادق رضاصاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی مقام؛ سنگھیاٹھاٹھول (پورنیہ) خادم؛ شاہی جامع مسجد پٹنہ بہار الھند*
◆ــــــــــــــــــ▫🔹▫ــــــــــــــــــ◆
*المشتــہر؛*
*اسيــرتـاج الشـر يعــه خـاكسـار*
*غــــلام احمــــد رضــــا نــــــورى*
◆ــــــــــــــــــ▫🔹▫ــــــــــــــــــ◆

منگل، 12 نومبر، 2019

مذی نجاست غلیظہ ہے-

0 comments
*🔹مذی نجاست غلیظہ ہے🔹*

السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ

🛡سوال۔مذی پاک ہے یا ناپاک اگر ناپاک ہے تو اس میں اور پیشاب میں کیا فرق ہے اور اگر یہ دونوں چیزیں ایک درہم سے کم کپڑے یا جسم میں لگی ہیں تو کیا حکم ہے اگر اسے بغیر دھوئے نماز پڑھ لی تو ہوگی یا نہیں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی 

*🌹سائل🌹 جاوید اختر*
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ* 

*📝اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّابِ اللّٰھُمَّ ھِدَایَةَالْحَقّ وَالصّوَابِ*
_انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے کہ اس سے غُسل یا وُضو واجب ہو نَجاستِ غلیظہ ہے ،جیسے پاخانہ، پیشاب، بہتا خون، پیپ، بھر مونھ قے، حَیض و نِفاس و اِستحاضہ کا خون،مَنی،مَذی، وَدی،_

*🔰 اور نجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے ،تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا*

_🔹 اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ ِتحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا_
_🔸 اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے، کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے۔_   

*📗(بہار شریعت، جلد اول، حصہ دوم، نجاستوں کے متعلق احکام)*

*والله تعالی اعلم بالصواب؛* 
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆
*✍ازقلـــم:-اسیـــر حضـــور اشـــرف العــلــمـاء ابـــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
*مورخہ، ٧ ربیع النور ١٤٤١ھ*
 *رابطہ؛ 9167698708*
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆
*المشتــہر؛* 
*اسيــرتـاج الشـر يعــه خـاكسـار*
*غــــلام احمــــد رضــــا نــــــورى*
◆ــــــــــــــــــ♦⛺♦ــــــــــــــــــ◆